تازہ ترین سرخیاں
 عالمی خبریں 
31 مارچ 2016
وقت اشاعت: 11:27

لیبیا میں انقلاب آیا یا پھر بغاوت ہوئی ؟

جیو نیوز - کراچی......ساگر سہندڑو..... 6 سال قبل دسمبر 2010ء میںتیونس سے شروع ہونےو الے عوامی احتجاج سے عرب اسپرنگ میں تبدیل ہونے والی تحریک نے مصراور تیونس میں کامیابی کے بعدشمالی افریقی ملک لیبیا کا رخ کیا جسے اس وقت انقلاب کہا گیا۔

عرب اسپرنگ فروری 2011ء تک لیبیا میں پہنچ چکا تھا اورباغیوں نے شدیدلڑائی کےبعد کئی شہروں پر قبضہ کرلیا تھا۔برطانوی نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق مارچ 2011ء میں باغی لیبیائی شہر اجدابیا میں داخل ہوئے۔

باغیوں کے کئی شہروں پر قبضہ کے بعد لیبیا میں معمر قذافی مخالف مظاہرے شروع ہوگئے جن میں خواتین سمیت نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے کئی سالوں تک حکمرانی کرنے والے معمر قذافی کے پتلوں اور تصاویر کو آگ لگا دی۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق گزرتے دنوں کے ساتھ ساتھ قذافی مخالف مظاہروں، باغیوں کے حملوں اوران کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا 2011ء کے وسط تک معمر باغی خواتین بھی سامنے آگئیں۔ اے کے 47 جیسے ہتھیار چلاتی باغی خواتین کی تصاویر نے دنیا بھرکی توجہ اپنی طرف کرلی۔

عرب اسپرنگ سے شروع ہونے والی لیبیا کی خانہ جنگی کو معمر قذافی مخالف لوگوں نے انقلاب کا نام دیا جبکہ قذافی کے حمایتیوں نے اسے بغاوت کہا۔ لیبیا کے حامی لوگ بھی باغیوں سے لڑنے کیلئے نکل آئے۔

ستمبر2011ء تک باغیوں کی طاقت دگنی ہوچکی تھی وہ خطرناک ہتھیاروں سمیت راکٹ لانچرز کا بھی استعمال کرنے لگے تھے جبکہ لیبیا میںبڑھتی ہوئی بے یقینی کو مدنظر رکھتے ہوئے مغربی اور یورپی ممالک بھی لیبیا کی خانہ جنگی میں کود پڑے اور معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا۔

بین الاقوامی مداخلت کے بعد باغیوں کے حملوں میں شدت آگئی اور 20 اکتوبر2011ء کو باغیوں نے سرت پر حملہ کرکےچار دہائیوں تک لیبیا پر حکمرانی کرنے والے کرنل معمرقذافی کو ہلاک کردیا۔

کرنل قذافی کی ہلاکت کے بعد سب کا خیال تھالیبیا میں امن ہوجائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ باغیوںنے کرنل قذافی کی ہلاکت کے بعد ان کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو 19 نومبر2011ء کوگرفتار کرلیا جنہیں گزشتہ سال لیبیا میں قتل عام کرنے کے جرم میں سزائے موت دی گئی۔

آج لیبیا کی خانہ جنگی کو پانچ برس مکمل ہوچکے ہیں اور معاملہ مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے لیکن دنیا بھر کے لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیںکہ لیبیا میں انقلاب آیا تھا یا پھر بغاوت ہوئی تھی؟

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.