تازہ ترین سرخیاں
 عالمی خبریں 
22 جولائی 2012
وقت اشاعت: 16:10

ڈرون حملے، امریکی وزیردفاع لیون پنیٹاکیخلا ف مقدمہ دائر

جیو نیوز - کراچی…یمن میں ڈرون حملوں کے باعث دو امریکی شہریوں کی ہلاکت کے بعد امریکا میں وزیردفاع کے خلاف مقدمہ قائم کردیا گیا ہے، سماعت کے دوران ڈرون حملوں کے قانونی جواز کے بارے میں وسیع پیمانے پر بات چیت کی جائے گی ۔گذشتہ سال 30ستمبر کو ایک ڈرون حملے کے دوران انور الاولاقی اور سمیر خان نامی افراد مارے گئے تھے جس میں انور امریکی شہری تھا۔ جبکہ دو ہفتے بعد ایک اور ڈرون حملے میں ہدف سے نشانہ چوک جانے پر16 سال کا عبدالرحمان الاولاقی مارا گیا تھا۔ اِن کارروائیوں کے بعد نصیر الاولاقی نے امریکی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ سال کے سب سے اہم مقدمہ قرار دیئے جانے والے اس کیس میں اس کا موقف ہے کہ امریکا اور یمن کے درمیان کوئی جنگ نہیں ہورہی۔ اِس کے علاوہ کسی صورت میں قاتلانہ حملے کی اجازت نہ امریکی قانون دیتا ہے نہ ہی بین الاقوامی انسانی حقوق دیتے ہیں۔ معلوم حقائق کے مطابق انور اور عبدالرحمان الاولاقی کسی ایسی سرگرمی میں ملوث نہیں تھے کہ ان کو قتل کیا جاتا۔ اس کیس نے امریکا میں قانون اور انتظامیہ سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ڈرون حملوں کے قانونی جواز کا مسئلہ بھی کھڑا ہو گیا ہے۔ تاہم امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں کا قانونی جواز موجود ہے کیونکہ امریکا ایسے لوگوں کو مارسکتا ہے جن سے اسے حملے کا خطرہ ہو۔امریکی اخبار میں کہا گیا ہے کہ اگر ڈرون حملوں کو کسی سطح پر سزائے موت تصور کیا جائے تب بھی ڈرون حملے موثر ٹارگٹ کلنگ ہوں گے جن میں نہ مقدمہ چلتا ہے، نہ اپیل ہوتی ہے اور نہ ہی وکیل دفاع آپ کے موقف کی حمایت کرسکتا ہے۔ امریکی جج کینیڈی نے کہا تھا کہ کسی کے خلاف سزائے موت کے فیصلے کا بے رحمی کی حدود میں آنے کا خدشہ ہوتا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کین روتھ کا کہنا ہے امریکا کی جانب سے اختیارات استعمال اپنی حدوں کو چھورہا ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.