22 ستمبر 2012
وقت اشاعت: 18:2
یورپی پارلیمنٹ میں ہفتہ کشمیرکی تقریبات چوبیس ستمبرسے شروع ہوں گی
جیو نیوز - پیرس…رضا چوہدری…یورپی پارلیمنٹ میں ہفتہ کشمیرکی تقریبات کے دوران مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کا مسئلہ اٹھایاجائے گا۔ یہ چارروزہ تقریبات 24ستمبرکو شروع ہوں گی۔ میڈیا نمائندوں کو پروگرام کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ کا اہتمام انٹرنیشنل کونسل فارہیومن ڈیولپمنٹ (آئی سی ایچ ڈی) اور کشمیرکونسل ای یو نے کیا تھا۔ بریفنگ میں ہالینڈ کی انسانی حقوق کی علمبردارماریان لوکس، رکن برسلزپارلیمنٹ ڈینیل کارون، انسانی حقوق اور موسمیاتی تبدیلیوں کی کشمیری ماہرسعدیہ میر اور کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضاسید نے شرکت کی۔ انہوں نے کہاکہ نمائش سمیت ان تقریبات کا مقصد مسئلہ کشمیرکو اجاگر کرنا اور مقبوضہ کشمیر میں عوام کی مشکلات کے بارے میں یورپ کے ذمہ دارلوگوں اور پالیسی ساز اداروں کو آگاہ کرناہے۔ ماریان لوکس نے حالیہ سالوں کے دوران مقبوضہ وادی میں دریافت ہونے والی ہزاروں بے نام اجتماعی قبروں کے بارے میں صحافیوں کو بریفنگ دی۔ انہوں نے کہاکہ یورپی پارلیمنٹ نے ان قبروں کے بارے میں ایک قرارداد بھی منظور کی ہے جس پر عمل درآمد ہوناچاہیے۔ سعدیہ میرنے خطے میں ماحولیاتی تبدیلیوں کا ذکرکرتے کہاکہ مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے سے خطے میں ماحول کو بھی خطرہ ہے، اگر مسئلہ پرامن طورپر حل نہیں ہوگا تواس سے ماحول کا لاحق خطرات بڑھیں گے، مسئلے کے حل کے لیے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کوبھی روکنا ضروری ہے۔رکن برسلزپارلیمنٹ ڈینیل کارون نے کہاکہ ہم نے زلزلے کے دوران کشمیریوں کی مدد کی اور آئندہ بھی ان کے ساتھ تعاون کرتے رہیں گے۔ اگر امن ہوگا تو اس سے عوام کو فائدہ ہوگا۔ کشمیرپر ایک ملین دستخطی مہم کے بارے میں چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضاسید نے بتایاکہ ایک ملین دستخطی مہم کے ذریعے ہم یورپ میں مسئلہ کشمیر پر آگاہی پیدا کرناچاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ یورپی رہنماء اور عوام اس مسئلے کے حل کی مہم میں شریک ہوں۔ علی رضاسید نے کہا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں ہزار افراد لاپتہ ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ گم شدہ افراد کا مسئلہ جلد از جلد حل ہو۔ انہوں نے زوردے کرکہاکہ بے نام قبروں میں دفن افرادکا ڈی این اے ٹیسٹ ہوناچاہیے تاکہ معلوم ہوسکے کہ ان قبروں میں کون لوگ دفن ہیں۔ پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے علی رضاسید نے کہاکہ انٹرنیشنل کونسل فار ہیومن ڈیوپلمنٹ (آئی سی ایچ ڈی) اور رکن یورپی پارلیمنٹ سجاد کریم مل کر 24سے 27ستمبر2012ء تک یورپی پارلیمنٹ برسلزمیں ہفتہ کشمیرمنائیں گے۔اس پروگرام کے تحت کشمیرپر ایک سیمیناراورتصویری، مصوری ، دستکاری اشیاء اور کتب کی نمائش منعقدہوگی اور ایک دستاویزی فلم دکھائی جائے گی۔ ان تقریبات میں بین الاقوامی سکالرز اور امن کے لیے کام کرنے والی اہم شخصیات، اراکین پارلیمنٹ، سیاستدان اورہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دوسری انسانی حقوق کی تنظیمیں شریک ہوں گی۔پروگرام کا عنوان:”کشمیرکی خوبصورتی، محفوظ ماضی اور زخمی حال “ ہے۔ ذیلی عنوان ”گمنام قبروں میں مدفون بے نام کشمیری“ ہے۔ تقریبات کے دوران ”جنوبی ایشیاء میں امن۔ایک ملین دستخطی مہم“ کے عنوان سے کشمیرپرسیمینار25 ستمبردن ڈھائی بجے منعقد ہوگا۔سیمینارکے دوران تنازع کشمیرکی وجوعات اور علاقے میں امن کی کوششوں اورخاص طورپردنیامیں ایک پرخطر ایٹمی جنگ کے امکانات پر روشنی ڈالی جائے گی۔ سیمینارکے دوران مسئلہ کشمیرکو اجاگرکرنے کے لیے یورپ میں جاری ”ایک ملین دستخطی مہم“ پر مبنی امن کوشش کو بھی زیربحث لایاجائے گا۔ اراکین یورپی پارلیمنٹ کی موجودگی میں اس سیمینار کے دوران انسانی حقوق کے مسئلے پر یورپی یونین کے آئین اور قواعدکی روشنی میں غورکیاجائے گا۔ اس سیمیناراورنمائش کے مقررین اور معززشرکاء میں پروگرام کے میزبان اوررکن یورپی پارلیمنٹ سجادحیدرکریم، دیگراراکین یورپی پارلیمنٹ جین لامبرت، ایووفگل اور ٹیموتھی کرکھوپ، انڈونیشیاء سے تنازع کشمیرپر ری سرچ اسکالر لورا سچورمانس، ہالینڈڈینیل، ورلڈ کشمیرڈائس پوراکینیڈاکے فاروق صدیقی، پاکستانی آرٹسٹ اور پینٹرجمیلہ ساغری، برطانیہ سے انسانی حقوق اورماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں پالیسی ایڈوائزر سعدیہ میر، کشمیرانسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز سری نگرکے خالد جہانگیر اور آئی سی ایچ ڈی کے چیئرمین علی رضاسیدشامل ہیں۔