7 اکتوبر 2012
وقت اشاعت: 14:25
شام ترک تنازع شدت اختیار کر سکتا ہے،امریکی وزیر دفاع
جیو نیوز - واشنگٹن…امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ شام اور ترکی کے درمیان جاری گولہ باری کے باعث اس تنازع کے بڑھنے سے متعلق تحفظات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق لیون پنیٹا نے لاطینی امریکی ملک پیرو کے دورے کے دوران کہا کہ امریکا اس تنازع کو بڑھنے سے روکنے کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کے دیگر مما لک کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردا ر ادا کرنا چا ہئے۔ پنیٹا کا یہ بیان ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوان کے اس انتباہ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے شام سے کہا تھا کہ اگر جنگ کا آغاز کیا گیا تو ترکی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان مسلسل چوتھے روز ہفتے کو بھی آرٹلری فائر کا تبادلہ ہوا۔دوسری طرف ایک امریکی اخبار کا کہنا ہے سعودی عرب اور قطر نے امریکی حمایت میں کمی کے بعد شامی باغیوں کو بھاری اسلحے کی فراہمی میں کمی کر دی ہے۔ نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق اس تازہ پیشرفت کے بعد شام میں جنگ کا نقشہ تبدیل ہو سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور قطر کے حکام نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ انہیں امید ہے وہ امریکا کو ہتھیاروں کی فراہمی پر رضامند کر لیں گے۔ امریکا کو خدشہ ہے کہ کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے میزائل اور دیگر بھاری اسلحہ جنگ طویل ہونے کی صورت میں دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔ اخبار نے ایک عرب اہلکار کے حوالے سے لکھا ہے کہ ہم وہ طریقہ کار دیکھ رہے ہیں کہ اس طرح کے ہتھیار غلط ہاتھوں میں جانے سے روکے جاسکیں۔ قطر کے وزیر خاجہ خالد العطیہ کے مطابق آپ باغیوں کو اے کے رائفلز دے سکتے ہیں مگر آپ شامی فوج کو ان رائفلوں سے روک نہیں سکتے۔