تازہ ترین سرخیاں
 عالمی خبریں 
19 اکتوبر 2012
وقت اشاعت: 11:18

افغانستان میں طالبان کا نیا مہلک ہتھیار’ٹرک بم،‘امریکی جریدہ

جیو نیوز - کراچی … محمد رفیق مانگٹ…امریکی جریدہ ’نیوز ویک‘لکھتا ہے کہ افغان عسکریت پسندوں کے پاس امریکا اور اس کے اتحادیوں پر حملے کے لئے پہلے سے زیادہ تباہ کن ااور مہلک گولہ بارود موجود ہے ،اور حالیہ دھماکے اس کی واضح مثال ہیں۔ طالبان ذرائع نے جریدے کو بتایا کہ افغان باغیوں کے پاس اب افغانستان میں امریکی اور نیٹو کی سہولیات پر حملوں کے لئے نئے اور پہلے سے کہیں زیادہ تباہ کن دھماکہ خیز مواد ہے۔ پکتیا صوبے میں ایک فوجی اڈے پر ٹرک بم دھماکا اس کی بڑی تازہ مثال ہے۔ نیا دھماکا خیز مواد اتنا تباہ کن اور طاقتور ہے کہ کونسل نے عام شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کے لئے امریکی اور نیٹو بیس کے نواح میں 15کلومیٹر علاقے سے گھروں کو خالی کرانے کا حکم دے دیا ہے۔ جس کا فیصلہ جنوبی افغانستان کی طالبان ملٹری کونسل نے ایک ماہ قبل اجلاس میں کیا ۔جریدے نے کونسل کے رکن کے حوالے سے کہا کہ باغیوں نے دیگر حالیہ بم حملوں میں دھماکہ خیز مواد استعمال کیا ہے۔اس طرح کا ایک حملہ گزشتہ جون خوست صوبے میں تیسرے بڑے امریکی بیس سیلرنو کیمپ بھی کیا گیا۔ ستمبر میں صوبہ ہلمند کے کیمپ گڑھ پر حملہ کیا گیا جہاں برطانیہ کے پرنس ہیری بطور ہیلی کاپٹر پائلٹ تعینات ہیں۔اس حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک اور لاکھوں ڈالر کے ہوائی جہاز اور دیگر سامان تباہ کردیا گیا۔طالبان انٹیلی جنس عہدیدار نے یہ بتانے سے انکار کردیا کہ نیادھماکہ خیز مواد کہاں سے لیا جا رہاہے۔ان کا کہنا تھا کہ خطے میں ہر شخص افغانستان کے کسی بھی حصے میں مستقل امریکی فوج کی موجودگی کے خلاف ہے۔ حملوں کا بنیادی مقصد امریکیوں کو یہ پیغام بھیجنا ہے کہ 2014 کے بعدافغانستان میں اڈے رکھنا آسان بات نہیں ہوگی۔ افغان انٹیلی جنس کے مطابق یہ کوئی بہتر صورت حال نہیں، وہ جانتے ہیں کہ طالبان افغان اور نیٹو اڈوں پر نیا گولہ بارود استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وجہ صاف ہے کہ پاکستان نے امریکی اور افغان حکومتوں کو خبردار کیا ہے امریکی افغانستان میں نہیں رہنے دیں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ خوست ، ہلمند اور پکتیکا میں امریکی کیمپوں پر حملے پاکستان اور ایران کی طرف سے واضح پیغام ہیں۔ چند سال قبل فوجی پٹرولنگ ٹیم کو 20سے30کلو وزنی دھماکا خیز مواد کے تھیلے ملتے تھے لیکن اب50سے500کلو گرام وزنی دھماکا مواد ملتا ہے ۔فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ایک ہزار کلو گرام دھماکا خیز مواد کے ٹرک پکڑے ہیں۔ملٹری بیسوں کو اس طرز پر تعمیر کیا جا رہا ہے کہ کسی حملے کی صورت میں صرف بیرونی دروازے کو نقصان پہنچے گا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.