تازہ ترین سرخیاں
 دلچسپ خبریں 
3 اکتوبر 2013
وقت اشاعت: 8:42

شیخوپورہ کے کامرس کالج میں چپڑاسی طلبہ کوانگریزی پڑھاتا ہے

شیخوپورہ…اسے ہم اپنے تعلیمی نظام کی خصوصیت کہیں یا بیروزگاری کے باعث جنم لینے والا المیہ۔لیکن یہ معاملہ ہے کچھ انوکھا ۔شیخوپورہ کے ایک سرکاری کالج میں کالج کا چپڑاسی طالب علموں کوانگریزی کی تعلیم دے رہا ہے۔شیخو پورہ کی تحصیل مریدکے میں قائم گورنمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف کامرس کالج میں طالب علموں کو انگریزی کی تعلیم دینے والا کالج کا پروفیسر یا لیکچرر نہیں بلکہ ایک چپڑاسی ہے۔سلطان بابر اس کالج کا چپڑاسی ضرور ہے۔ مگر اس نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کا امتحان پاس کیا ہوا ہے۔ بے چارہ سلطان اپنی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی ڈیوٹی بھی ادا کرتاہے جن کا کام طلبہ کو تعلیم دینا ہے۔کالج کے پرنسپل کہتے ہیں کہ اسٹاف کی کمی کے باعث مجبوراً سلطان بابرسے بطور لیکچرر بھی کام لے لیتے ہیں۔یہ بات درست ہے کہ سلطان بابر نائب قاصد ہے لیکن اساتذہ کی کمی کی وجہ سے مجبورا اس سے بطور ٹیچر بھی کام لیا جاتا ہے اور اس کی عمدہ کارکردگی سے طلبہ بھی مطمئن ہیں۔بے چارے سلطان بابرکا کہنا ہے کہ اس نے گریڈ 4 کے کلیریکل اسٹاف کے لیے بھی درخواست دی تھی لیکن یہ درخواست بھی مسترد کردی گئی۔ اب کالج میں عملہ کم ہے تو اسے ہی لیکچرر رکھ لیا جائے۔ جبکہ طلبہ اسکی کارکردگی سے مطمئن بھی ہیں۔سلطان بابر کا کہنا ہے کہ خواہش ہے کہ اسٹاف کی کمی پوری کرتے ہوئے اسی کالج میں بطور انگریزی کا ٹیچر بھرتی کر لیا جائے۔سلطان بابر 2005 میں گریجویشن مکمل کرنے کے بعد گورنمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف کامرس کالج میں بطور چپڑاسی بھرتی ہوا تھا اور 2012 میں ایم اے انگلش کرنے کے بعد بھی چپڑاسی ہی ہے۔ کیا ہمارے ارباب اختیار میرٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے سلطان بابر کو اس کا حق دینگے؟؟؟

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.