23 اگست 2015
وقت اشاعت: 11:31
دنیا بھر کی آج پاکستان میں دماغ کا عالمی دن منایا جارہا ہے
کراچی .......دماغی صلاحیتوں کو نظر انداز کرکے تو پھر بھی جیا جاسکتا ہے، مگر دماغی بیماریوں سے غفلت کا نتیجہ بہت خوفناک ہوسکتا ہے، اسی لئے آج دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ذہنی بیماریوں سے متعلق آگاہی کا دن منایا جارہا ہے۔دماغ انسانی زندگی کا مرکز ہے،انسان اپنی زندگی میں کیسا ہے اور کیا بنتا ہے، اس بات کا زیادہ تر انحصار اسی بات پر ہوتا ہے کہ اُس نے اپنی دماغی صلاحیتوں کو کس طرح استعمال کیا۔ تاہم دماغ اگر کسی بیماری سے متاثر ہو تو پھر صورتحال مختلف ہوجاتی ہے-انسانی دماغ کی اہمیت اور بیماریوں سے آگاہی کیلئے ہر سال 22 جولائی کو عالمی سطح پر دماغ کا دن منایا جاتا ہے ۔ اس سال کا موضوع مرگی کو رکھا گیا ہے- گزشتہ 3 دہائیوں سے دماغ کے مختلف امراض پر تحقیق اور تشخیص کرنے والے ڈاکٹر ستار ہاشم کے مطابق دماغ کے ذریعے جسم کے کسی بھی حصہ کو خون کی روانی رک جانے کو مرگی کا مرض کہا جاتا ہے یہ پیدائشی طور پر یا کسی ناگہانی حادثے کی صورت میں بھی ممکن ہے ۔ورلڈ فیڈریشن آف نیورولوجی کے مطابق دنیا بھر میں 50 ملین سے زائد افراد مرگی کے مرض میں مبتلا ہیں۔بروقت تشخیص اور علاج سے 70 فیصد مریض اپنی زندگی کو بہتر طور پر گزار سکتے ہیں۔ڈاکٹروں کے مطابق مرگی کا مرض عمر کے کسی بھی حصے میں ہوسکتا ہے۔ماہرین طب کے مطابق مرگی کا مرض قابل اعلاج ہے اور متاثرہ مریض کو اعلاج کےساتھ اگر گھروالوں ،معاشرے اور دوستوں کا ساتھ مل جائے تو بہتری کے نتائج کئی گناہ بڑھ جاتے ہیں۔