5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
سوڈان نے امریکی حملوں پر وضاحت طلب کی تھی،وکی لیکس
جنگ نیوز -
کراچی…ایسا نہیں کہ امریکا جب چاہے جہاں چاہے قدم جمالے یا اپنی مرضی سے حملے کرے۔ دو ہزار نو میں سوڈان نے اپنی حدود میں فضائی حملے کرنے پر امریکا سے باز پرس کی اور وضاحت طلب کی ۔ چوبیس فروری دو ہزار نو کو خرطوم میں امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور فرنانڈس کو سوڈانی وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا۔ امریکی ناظم الامور کو بتایا گیا کہ جنوری اور فروری میں کیے جانے والے دو فضائی حملوں میں اٹھانوے سوڈانی باشندے مارے گئے جبکہ درجنوں گاڑیاں تباہ ہوئیں۔ خرطوم میں امریکی محکمے کے ہیڈ سفیر Nasreddin Waliکا کہنا تھا کہ جن طیاروں سے حملے کیے گئے وہ امریکی تھے۔ انھوں نے کہا کہ سیکیورٹی کے معاملات پر سوڈان کا امریکا کیساتھ تعاون اچھا ہے اس کے باوجود یکطرفہ اقدام قابل قبول نہیں۔ اگر امریکا کو سلامتی کے حوالے سے کسی بھی قسم کی تشویش تھی تو اسے سفارتی طریقے سے سوڈان کو آگاہ کرنا چاہیئے تھا۔ اس باز پرس کے بعد امریکی ناظم الامور نے اسی دن واشنگٹن کو مراسلے بھیجا اور ان خیالات کا اظہار کیا کہ سوڈان حکومت کو اس بارے میں وضاحت دینا ہوگی بصورت دیگر اگر یہ خبر سوڈان کے میڈیا میں آگئی تو امریکیوں کیلئے یہاں سیکیورٹی کی صورت حال خراب سے ابتر ہوجائے گی۔