تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48

2010،کراچی میں 1650افراد مار دیے گئے،373لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی

جنگ نیوز -
کراچی…رپورٹ/سید عارفین …سال 2010 میں کراچی میں 1650 لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، جس میں 373 لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی۔مذہبی دہشت گردی کے نام پر 50لوگوں کی جانیں لے لی گئیں ۔ شہر میں مختلف جگہوں پر پانچ بڑے دھماکے کئے گئے جس میں درجنوں افراد شہید اور زخمی ہوئے۔ پہلے دو دھماکے چہلم امام حسین کے موقع پر نصب بم کے ذریعے ہوئے جس کے بعد عبداللہ شاہ غازی کے مزارپر دو خودکش دھماکے کئے گئے، پانچواں دھماکا سی آئی ڈی کی عمارت میں خود کش حملہ آور نے ٹرک کے ذریعے کیا جس نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔اس خودکش دھماکے کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ میریٹ خودکش دھماکے کے بعد یہ پاکستان کی تاریخ کا دوسرا بڑادھماکا ہے جس میں چار سو سے پانچ سو کلوگرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔قانون نافذ کرنے والوں اداروں کی جانب سے درجنوں طالبان کمانڈروں اور دوسری کالعدم جماعتوں کے اراکین کو گرفتارکرکے ان کے قبضے سے بھاری تعداد میں اسلحہ ، گولہ بارود ، جہادی لٹریچر، کمپیوٹرز سمیت دیگر اشیاء برآمد کرنے کا دعوی کیا گیا ۔ان اعدادوشمار کو دیکھ کرذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا آنے والا سال میں کراچی میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئے گی ؟ اس حوالے سے ہم نے پولیس ، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سابق سربراہوں اور انسداد دہشت گردی کے حکام سے متعدد انٹرویوز کئے۔ سابق ڈائریکٹرملٹری انٹیلی جنس سندھ اور سابق سیکرٹری محکمہ داخلہ سندھ بریگیڈئر (ر) غلام محمد محترم کا کہنا ہے کہ کراچی کے حالات ایسے ہی رہیں گے کیو نکہ پولیس کو اسلحہ اور آلات دینے کا کوئی فائدہ نہیں جب تک پولیس کی نفری میں اضافہ اور تربیت پر خصوصی توجہ نہیں دی جاتی ۔ان کا کہنا ہے پولیس کا مورال ڈاؤن ہے کیو نکہ گرفتار دہشت گردوں کو پکڑنے کے بعد کوئی حتمی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا ،دہشت گردوں کو سزائیں نہیں مل رہیں۔ وہ جیلوں میں تو ہیں لیکن وہاں بیٹھ کر بھی وہ منصوبہ بندی میں مصروف رہتے ہیں اور ان کا باہر موجود اپنے ہر کاروں کے ساتھ رابطہ رہتا ہے جو ان سے ہدایات لیتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان دوسری جگہ کارروائی کر کے کراچی میں چھپ جاتے ہیں چونکہ وہ بھی عام پشتونوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں اسلئے ان کو کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔طالبان کو سب سے زیادہ مالی تعاون کراچی میں سے ملتا ہے جو کہ زکوة اور دوسرے عطیات کی صورت میں ہوتا ہے۔کالعدم جماعتوں کے لوگ کراچی میں بینک ڈکیتیاں کر کے بھی پیسہ اپنی تنظیموں کو بھیجتے ہیں۔"حالات مزید خراب ہونگے "یہ برجستہ کہنا تھا کہ اس پولیس افسر کا جو نہ صرف چاروں صوبوں میں خدمات انجام دے چکے ہیں بلکہ 2000ء کے بعد سے ، پاکستان کی تاریخ کے دہشت گردی کے متعددبڑے کیسز پر کام بھی کرچکے ہیں ۔ کراچی کے حالات پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہم اس وقت بارود کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں جس کو صرف ماچس دکھانے کی ضرورت ہے ۔ہر تنظیم کے پاس بھاری مقدار میں انتہائی جدید اسلحہ موجود ہے جو کسی کی بھی سوچ سے باہر ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگر اسی انداز میں محکمہ پولیس کو چلایا گیا جہاں اہم ترین پوسٹوں پر میرٹ کے بجائے سیاسی سفارش پر تعیناتیاں ہوں توحالات میں بہتری نہیں آسکتی ۔ کراچی پولیس میں اس وقت احتساب اور سزا کا نظام غیر فعال ہوچکا ہے جو کسی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ پولیس افسران اور اہلکاروں کو کسی چیز کا ڈر نہیں۔پولیس فورس کو قائدانہ صلاحیت کے حامل پولیس چیف کی ضرورت ہے جس کی ایک مثال سابق سی سی پی او پشاور اور فرنٹئر کانسٹبلری خیبر پختون خواہ کے شہید کمانڈنٹ صفوت غیور کی تھی، جس نے دہشت گردوں کے خلاف برسر پیکار پشاور پولیس اور ایف سی کے مورال کو آسمان پر پہنچا دیا تھا۔ فورس اپنے لیڈر کی طرف دیکھ کر کام کرتی ہے، اگر لیڈر اپنے فرائض ایمانداری اورنیک نیتی سے ادا کررہا ہے تو فورس بھی اسکی پیروی کرتی ہے۔ سی آئی ڈی کے ایک سابق ڈی آئی جی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کی اس وقت محکمہ پرانے گانوں کے ریمکس کی طرز پر کام کررہا ہے۔پرانے گروپوں کے نچلے درجے کے بچے کچھے ارکان کو نئے ناموں اور نئے گروپوں کا نام دے کر گرفتار کیا جاتا ہے ۔ماضی میں سی آئی ڈی کے افسران اور اہلکار، انٹیلی جنس ایجنسی کی طرز پر خفیہ رہ کر اپنا کام کرتے تھے جس کی وجہ سے لوگ انہیں نہیں پہچانتے تھے۔ لیکن آج کے دور میں سی آئی ڈی کے مختلف نام نہاد یونٹوں کے افسران آئے دن پریس کانفرنس کرتے نظر آتے ہیں، سی آئی ڈی کے افسران نے ٹی وی چینلز پر نظر آنے کی دوڑ میں اپنی شناخت سب کے سامنے ظاہر کرکے سی آئی ڈی کے کور مشن سے ہٹ چکے ہیں اور کچھ عرصہ قبل سی آئی ڈی کی عمارت میں ہونے والا دھماکا اسی کا شاخسانہ ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ سی آئی ڈی میں نئے خون کی ضرورت ہے۔ سندھ پولیس کاکرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ ، سی آئی ڈی، دہشت گردی کی انسداد کے لئے قائم کیا گیا تھا۔اس ادارے کے حالیہ کاکردگی کے حوالے سے لوگ اسے ہدف تنقید بنا رہے ہیں لیکن ایڈیشنل آئی جی سعود مرزانے سی آئی ڈی کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ پہلے کی نسبت زیادہ فعال ہے کیونکہ جتنے لوگ اس دور میں پکڑے گئے ہیں اس سے پہلے گرفتارنہیں ہوئے۔ ہم صرف طالبان پر کام نہیں کررہے بلکہ دوسرے گروپس پر بھی کام ہورہا ہے ۔ کالعدم تنظیموں کے اہم ترین دہشت گردوں کو گرفتارکیاگیا،جس کی ایک مثال ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی سید رضا حیدرکے قتل کے الزام میں گرفتار ہونے والاکالعدم لشکر جھنگوی کا دہشت گرد وسیم بارودی ہے۔ہیومن انٹیلی جنس کی بہتری کے بارے میں جواب دیتے ہوئے سعود مرزانے بتایا کہ دہشت گرد چار سے پانچ افراد پر مشتمل گروپس کی شکل میں چھوٹے سیلز کی طرز پر کام کرتے ہیں۔ ان گروپس میں سرایت کرنا آسان نہیں ہوتا کیو نکہ اگر ان کو پتا چل جائے تو وہ اس ساتھی کو جان سے مارنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ سی آئی ڈی کے کئی اہلکار اور ان کے ذر ائع مارے جاچکے ہیں۔سی آئی ڈی کے تمام افسران اور اہلکار دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرح دہشت گرد بھی مانٹرنگ کرتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نئے لوگوں کو سی آئی ڈی میں بھرتی کیا جارہا ہے لیکن چونکہ سی آئی ڈی میں خطرات بہت ہیں اس لئے کوئی آسانی سے یہاں کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ آنے والے کچھ مہینوں نے ہائی ٹیک سرویلنس کیمروں کی تنصیب کا عمل شروع ہوجائے گا جس سے بھی امن وامان کی صورتحال کو قابو کرنے میں کافی مدد ملے گی۔انہوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ یہ کہنا کہ گرفتاریاں تو انٹیلی جنس ایجنسیاں کرکے قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے ان کے حوالے کر دیتی ہیں، غلط ہے ۔ سی آئی ڈی نے بھی بہت سے بڑے اور اہم ترین کام کئے ہیں۔ انٹیلی جنس ایجنسیز اپنا کام کرتی ہیں اور سی آئی ڈی اپنا کام انجام دیتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سی آئی ڈی کے افراد پہلے ہی نمایاں ہیں اور کتنے ہونگے؟ ہم سامنے آئے یا نہ آئیں دہشت گردوں کو پتہ ہے ان کے پیچھے کون ہے ؟ دہشت گردوں نے کسی پولیس اسٹیشن پر حملہ کرنے کے بجائے صرف سی آئی ڈی پر حملہ کیا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کون ان سے یہ جنگ لڑ رہا ہے ، کون ان کی کمر توڑرہاہے۔عبداللہ شاہ غازی کے مزار اور سی آئی ڈی کی عمارت میں دھماکے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کیس میں مثبت پیش رفت ہو ئی ہیں لیکن ان کو ابھی بیان کرنا مناسب نہیں۔ سی آئی ڈی کے ایک افسر نے نام نہ ظاہر کرتے ہوئے انتہائی جذباتی انداز میں شکوہ کیا کہ ہے کہ ہمیں لوگوں کی سپورٹ چاہئے ۔ سی آئی ڈی آفس کے دھماکے کے بعد دوسرے ممالک کے سفارت خانے اور قونضل خانے سے ہمیں فون اور خطوط آئے، ہمدردی کی ، تسلی دی ، ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے لیکن ہمارے اپنے لوگوں نے ہمیں پوچھا تک نہیں۔ موجودہ حالات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جب تک افغانستان میں جنگ جاری رہے گی اور قبائیلی علاقوں میں ڈرون حملے ہوتے رہیں گے اس وقت تک ملک سمیت کراچی کے حالات میں بہتری نہیں آسکتی۔میڈیا کے سامنے آنے کے سوال پے ان کا کہنا تھا کہ ہر حکومت کی طرح موجودہ حکومت بھی چاہتی ہے کہ کوئی بھی کااچھا کام ہو تو اس کی تشہیر کی جائے اس لئے پریس کانفرنس کرنی پڑتی ہے اور پھر اہلکاروں کا مورال بھی بلند رہتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مدارس میں اصلاحات کی ضرورت ہے،جب تک سپلائی چین کونہیں روکا جائے گا اور جب تک مدارس کے نصاب میں تبدیلی نہیں لائی جاتی ، دہشت گردی کے جن کو قید کرنا نا ممکن ہے۔ بھٹکے ہوئے لوگوں کو درست راستے پر لانے کے لئے قران اور سنت کا سہارا لینا چاہیے جیسا کہ سعودی عرب میں ہورہا ہے۔ کراچی امن وامان کی صورتحال کے بارے دہشت گردی کی انسداد کیلئے سرگرم ایک افسر کا کہناتھا کہ شہر میں پانچ مختلف قسم کے قتل ہوتے ہیں جس میں لسانی، فرقہ وارانہ،مافیا، ذاتی اور حادثاتی کلنگ شامل ہیں ۔ہر مذہب،فرقے، زبان، رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والا فرد، ہر طبقہ مختلف علاقوں میں اپنااثرورسوخ بھی رکھتا ہے اور جب اس کے زیر اثر علاقے میں اس کی مرضی اور منشاء کے خلاف کوئی بات ہوتی ہے تو نتیجہ امن و مان کی ابتر صورتحال ہوتی ہے ۔ کراچی کی صورتحال کو سمجھنے کے لئے پہلے اس کے مزاج کو سمجھنا ہوگا اس کے بغیر حالات میں بہتری نہیں آسکتی۔شہر میں موجود اسلحہ تیل پر آگ چھڑکنے کے مترادف ہے۔ پہلے ہی کافی تعداد میں قانونی اسلحہ موجود ہے تو غیر قانونی اسلحہ تو دور کی بات۔ہم چاہتے ہیں کہ پہلے تمام قانونی اسلحے کے بارے میں معلوم کرلیا جائے اور اس کے بعد ان کے فورنزک نمونے لئے جائیں تاکہ اگر کسی واردات میں قانونی اسلحہ استعمال ہو تو اس کا فورا پتا چلایا جا سکے۔غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی کے لئے لوگوں کو ترغیب دینی ہونگی جیسے کہ ان کے اسلحے کو خرید لیا جائے اور ایسا ممکن ہے کیونکہ دنیا میں ایسا ہوا ہے۔انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اکثر اوقات دنیاکو دکھانے کیلئے میڈیا کے سامنے معمولی جرم میں گرفتار لوگوں کودہشت گرد بنا کر پیش کیا جاتا ہے لیکن یہ تو امریکہ میں بھی ہوتا ہے ۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ امریکہ ، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں مسلمان نوجوانوں کو دہشت گرد بنا کر پیش کی جاتا ہے اور بعد میں ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملتا۔لیکن یہ ہر دفعہ ایسا نہیں ہوتا۔اس وقت کراچی میںBalance of Terror یعنی توازن دہشت ہے ۔ ہر گروپ کو پتہ ہے کہ دوسرا گروپ بھی طاقتور ہے ، وہ اگر ان کو نقصان پہنچا ئیں گے تو خود بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ اسی لئے ایک دم سے ہوا چلتی ہے اور درجنوں لوگ مار دیے جاتے ہیں لیکن یکدم ہی سب ٹھیک ہوجا تا ہے۔ انٹیلی جنس اداروں اور پولیس کے درمیاں رابطے کا شدید فقدان ہے ۔ نہ حساس ادارے پولیس پر بھروسہ کرتے ہیں اور اسی طرح پولیس بھی ان اداروں پر اعتماد کرنے کیلئے تیار نہیں۔انفارمیشن کا معمول کی بنیادوں پر تبادلہ نہیں کیا جاتا، صرف شہر میں کسی بڑی تقریب یا حادثے کی صورت میں ہی یہ ادارے آپس میں سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں ۔ اس صورتحال کی وجہ سے ہر ادارہ ذاتی حیثیت سے کام کررہا ہے اور انفارمیشن ایک جگہ اکھٹی نہیں ہورہی جس کا فائدہ دہشت گردوں کو مل رہا ہے۔ دہشت گردی کی انسداد کرنے والے ایک افسرکے مطابق کالعدم جماعتوں کے چھوٹے چھوٹے گروپس بن گئے ہیں جن میں کراچی کے مقامی لڑکے بھی شامل ہوتے ہیں۔یہ بظاہر تو کسی کے کنٹرول میں نظر نہیں آتے لیکن القاعدہ ،کالعدم لشکر جنگوی اور دیگر انتہا پسند تنظیمیں اپنے مقاصد کے لئے ان چھوٹے گروپس کو استعمال کرتی ہیں کیونکہ یہ گروپس کراچی کی حالات اور جگہوں کو جانتے ہیں کالعدم تنظیمیں ا یسے افراد کی تلاش میں رہتی ہیں تاکہ ان کا کام صرف پیسہ، اسلحہ ، گولہ بارود اور دیگر وسائل کی فراہمی تک محدود رہے اور ان کا مقصداور مشن مقامی لڑکے پورا کردیں۔یہ گروپس دوسرے گروپس کے بارے میں زیادہ آگاہی نہیں لگتے اور یہی وجہ ہے جب ان ایک گروپ پکڑا جاتا ہے تو وہ دوسرے کے بارے میں کوئی خاطر خواہ معلومات نہیں دیتا۔ماضی میں کالعدم جماعتوں کو بھرتی کیلئے لوگ مشکل سے ملتے اور جو بھی لوگ کام کرتے تھے وہ ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں رہتے تھے ، اسلئے جب ایک کارندہ پکڑا جاتا تھا تو پوری گروہ گرفت میں آجاتا تھا۔ ایک انتہائی اہم انکشاف کرتے ہوئے افسرنے بتایا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں میں تو تجزیاتی سیل ہیں لیکن چونکہ ان میں عدم اعتماد ہے اسلئے معلومات مستقل بنیادوں پر پولیس کے ساتھ شئیر نہیں کی جاتیں۔ پولیس میں دہشت گردی کے واقعات، کالعدم جماعتوں ، سربراہوں ،سرگرمیوں ،نئے بھرتی ہونے والے افراد ، مختلف گروپس کا طریقہ واردات ، استعمال ہونے والا اسلحہ اور بارود، کالعدم تنظیموں میں دھڑے بندیاں اور دیگر اہم موضوعات پر پر نظر رکھنے کیلئے کوئی تجزیاتی ونگ موجود نہیں جو مستقل بنیادوں پر صورتحال پر نظر رکھ کر ٹھوس اطلاعات کی بنیاد پر تجزیاتی رپورٹس مرتب کرے،تاکہ قانون کے رکھوالے قانون توڑنے اور ہاتھ میں لینے والوں سے ایک ہاتھ آگے رہیں۔صرف انفرادی حیثیت میں چند گنے چنے افسران کے پاس یہ معلومات ہیں لیکن بطور سیل یا ونگ کسی کے پاس ایسی اہم ترین معلومات ایک جگہ موجود نہیں ہیں۔










متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.