تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48

سوڈان میں علیحدہ وطن کیلئے ریفرنڈم، جنوبی خطے میں ووٹنگ جاری

جنگ نیوز -
خرطوم . . . . سوڈان کے عیسائی اکثریت والے جنوبی خطے کے عوام آج ریفرنڈم کے ذریعے علیحدہ وطن کا فیصلہ کرنے کیلئے ووٹ ڈال رہے ہیں ۔ ریفرنڈم کے نتیجے میں افریقا کے سب سے بڑے ملک کی مذہبی بنیاد پر تقسیم کا امکان ہے۔افریقہ اور عرب دنیا کے سب سے بڑے ملک سوڈان کے جنوبی علاقے میں آج آزادی ریفرنڈم کے لئے ووٹ ڈالے جارہے ہیں ۔ ریفرنڈم کے ذریعے اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ حصہ خود مختار بنے گا یا دارالحکومت خرطوم سے جڑارہے گا ۔صبح سے پولنگ جاری ہے۔چالیس لاکھ کے قریب ووٹرزاپناحق رائے دہی استعمال کرنے لمبی قطاروں میں لگ گئے۔ریفرنڈم کیلئے ووٹنگ سات دِن جاری رہے گی۔آج پہلے دن جنوبی سوڈان کے صدرSalva Kiir نے اپناووٹ کاسٹ کیا۔تاریخی ریفرنڈم2005میں سوڈان کے شمالی اور جنوبی خطوں کے درمیان ہونیوالے امن معاہدے کا اہم حصہ تھا، جس کے نتیجے میں افریقا کے طویل ترین تنازع کا خاتمہ ممکن ہوا تھا۔ریفرنڈم کے موقع پر سوڈان میں اہم عالمی شخصیتیں موجود ہیں، جن میں سابق امریکی صدر جمی کارٹر، اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان اور ہالی ووڈ اسٹار جارج کلونی شامل ہیں۔ 27 ملین آبادی والے سوڈان کاوہ حصہ جومسیحیوں کی اکثریت پرمشتمل ہے اورمسلم اکثریتی آبادی والے شمال سے آزادہوناچاہتاہے۔ جنوب کے بعض علاقوں میں پہلے ہی آزادی کاجشن شروع ہوگیا جس سے ریفرنڈم کے نتیجے کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔سوڈان کے شمال میں عرب مسلمان اور جنوب میں افریقی مسیحی اکثریت میں ہیں ۔ سوڈان کو1956 میں برطانیہ سے آزادی ملی تھی تب سے ہی شمالی اور جنوبی خطوں کے درمیان مذہبی ، نسلی ، نظریاتی اور وسائل کی تقسیم پرتنازعات جاری رہے جن میں لاکھوں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھرہوچکے ہیں ۔2005 میں دونوں خطوں کے درمیان امن معاہدہ ہوا جس کے نتیجے میں افریقا کے طویل ترین تنازع کا خاتمہ ممکن ہوا تھا ۔ امن معاہدے کے تحت جنوبی سوڈان کو نیم خودمختاری دی گئی اور ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ اسی ریفرنڈم کیلئے آج ووٹ ڈالے جارہے ہیں اور ووٹنگ کا عمل سات دن تک جاری رہے گا ۔اگر جنوبی سوڈان کے عوام کی اکثریت نے آزادی کے حق میں ووٹ دیئے تو دنیا کا193واں ملک وجود میں آ جائیگا ۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.