5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
گورنر پنجاب کاقتل :پاکستانی معاشرہ تقسیم نظر آتا ہے،امریکی اخبار
جنگ نیوز -
اسلام آباد…فارن ڈیسک… امریکی اخبار ”نیویاک ٹائمز“کے مطابق گورنر پنجاب کے قتلپر پاکستانی معاشرہ تقسیم نظر آتا ہے، تعلیم یافتہ طبقے میں مذہبی رجحان پروان فروغ پارہاہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج پر اربوں ڈالر خرچ کرنے والا واشنگٹن پاکستانی معاشرے میں مذہبی قدامت پسندی کو نظر انداز کر گیا۔ کچھ عرصہ قبل جمہوریت کی طاقت سمجھا جانے والا وکلاء کا طبقہ گورنر کے قاتل پر پھول برساتا نظر آیا جن میں زیادہ تر نوجوان وکلاء تھے جنہیں کبھی جمہوریت کی طاقت کے طور پر دیکھا گیا اس صورت حال سے کئی لوگ حیران ہیں۔ امریکی اخبارکے مطابق حالیہ دنوں میں گورنر پنجاب کے قاتل کی حمایت میں نعرے لگاتے ہجوم نے قاتل کے عمل کی تعریف کی جس نے گورنر کو 26گولیاں ماریں۔ ناموس رسالت ﷺکے نام پر کیا گیا قتل جرأت کا عمل گردانا جا رہا ہے۔ قاتل کی حمایت میں شروع کی گئی گرمجوش مہم نے حکومت کو پریشان اور گورنر کے حامیوں اور دوستوں کو مایوس کردیا ہے،اس نے وسیع تر عوامی اور بیرون ملک مبصرین کو بھی الجھا دیا ہے جو یہ توقع کر رہے تھے کہ اس قتل کی ریاست کی طرف سے سخت قانونی کارروائی عمل میں آئے گی۔اس کے بجائے قاتل پر پھولوں کی بارش کی گئی اور وکلاء اس کے دفاع کے لیے سرگرم ہو گئے۔وکلاء کے موقف سے پاکستانی معاشرہ دو حصوں میں بٹ گیا ہے،قدامت پسندی کے اثرات حتیٰ کہ عسکریت پسندی اب تعلیم یافتہ طبقے میں بھی پائی جاتی ہے۔اسے ضیاء کی نسل کے طور پر بھی بیان کیاجاتا ہے،80ء کی دہائی میں فوجی آمر ضیاء الحق نے سرکاری تعلیمی اداروں اور سیاسی ہتھیار کے طور پر اسلام کو استعمال کیا۔نیو یارک ٹائمز لکھتا ہے کہ امریکا دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پاکستانی فوج پر اربوں ڈالرخرچ کر رہا ہے لیکن اس نے معاشرے میں قدامت پسند مذہبی رجحانات کو نظر انداز کردیا۔