5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
جولین اسانج کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت منتقل
جنگ نیوز -
لندن…وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے مقدمے کی سماعت دہشت گردوں کے مقدمات کی سماعت کرنیوالی عدالت منتقل کر دی گئی ہے۔یہ انکشاف جولین اسانج نے سوئس اخبار سے انٹرویو میں کیا۔انہوں نے بتایا کہ کل ان کے خلاف چلنیوالے مقدمے کی سماعت بیلمارش کورٹ میں کی جا ئے گی جہاں سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے جاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مقدمے کی سماعت پر ان کی والدہ بھی آسٹریلیا سے لندن پہنچ گئی ہیں۔قید سے متعلق سوال پر جولین کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ سفر کے شوقین رہیہیں لیکن نظر بند کیے جانے سے وہ خود کوایسا سمجھتے ہیں جیسے پنجرے میں قید پرندہ۔امریکی مراسلوں کی اشاعت ، وکی لیکس کی ویب سائٹ اور ایسے کئی سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ امریکی مراسلوں کی اشاعت سے ان پر دباوٴ ضرور بڑھا لیکن اس سے ان کا عزم اور مضبوط ہوا۔جولین نیدعویٰ کیا کہ ان کی گرفتاری کے باوجود وکی لیکس ویب سائٹ معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔تاہم مراسلے جاری کرنے کے وقت سے انہیں ہر ہفتے چھ لاکھ پاوٴنڈ نقصان ہو رہا ہے۔وکی لیکس کے مقاصد بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کم عمری سے ہی وہ بڑے سرگرم اور سایست میں فعال تھے۔ وہ ہمیشہ سیاسی طاقت اور آزادی اظہار کے معاملات شفاف رکھنے کے لیے لڑے۔اور انٹرنیٹ نے ان کا دائرہ اور بڑھا دیا۔نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے کلائی میں بندھے ٹیگ کو انہوں نے بے ہودہ حرکت قرار دیا۔سیاسی پناہ پر سوال سے متعلق انہوں نے کہا کہ وہ سوئزرلینڈ کو بھی درخواست دے سکتے ہیں۔اور مرضی ہوئی تو آسٹریلیا بھی جا سکتے ہیں کیونکہ جب سے شہریوں نے ان کے حق میں مظاہرہ کیا حکومت نے بھی ان کے بارے میں خیالات بدل لیے ہیں۔بینک آف امریکا کے بارے میں وکی لیکس کے ممکنہ انکشافات پر سوال سے متعلق انہوں نے کہا کہ نہ صرف بی او اے بلکہ اور بھی کئی امریکی بینکوں نے وکی لیکس کا آئندہ ہدف بننے کے ڈر سے کھاتوں کی آڈٹنگ شروع کرا دی ہے۔ایسے میں ان بینکو سے متعلق کوئی بھی مواد شائع کرائے بغیر ہی چیزیں مثبت انداز میں بڑھ رہی ہیں۔