5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
ہیٹی:زلزلے کو ایک سال گذرگیا،ہزاروں متاثرین تاحال امداد سے محروم
جنگ نیوز -
پورٹو پرنس…ہیٹی میں تقریبا ڈھائی لاکھ انسانوں کو موت کی نیند سلانے والے زلزلے کوایک سال مکمل ہوگیا ہے ۔سابق امریکی صدربل کلنٹن نے پورٹ اوپرنس میں وقت گزارا۔ ہیٹی میں بارہ جنوری کے روز ریکٹر اسکیل پر سات ڈگری کی شدت سے آنے والا یہ زلزلہ دنیا میں سب سے تباہ کن قدرتی آفات میں سے ایک ثابت ہوا ۔قدرتی آفت کے نتیجے میں دو لاکھ تیس ہزار سے زائد انسان ہلاک ہو گئے ۔جن میں دارالحکومت پورٹ او پرانس میں موجود اقوام متحدہ کے 102 کارکن بھی شامل تھے ۔لاتعداد سرکاری اور نجی عمارتیں نیست و نابود یا قطعی طور پر ناقابل استعمال ہو گئی ں۔ اس ہولناک آفت کا ایک سال پورا ہونے کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے نیو یارک میں کہا کہ عالمی برادری کو ہیٹی کے سیلاب زدگان کی امداد اور تعمیر نو کے منصوبوں کے لیے نئے سرے سے امداد مہیا کرنی چاہیے اور پہلے کے مقابلے میں یہ امداد دوگنا کیے جانے کی ضرورت ہے ۔گزشتہ روز ہیٹی پہنچنے پر بل کلنٹن نے کہا کہ انہیں ہیٹی میں متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کے کاموں کے حوالے سے سست رفتاری پر بڑی نا امیدی ہوئی ہے۔اس زلزلے کے نتیجے میں بے گھر ہو جانے والے کئی ملین انسانوں میں سے لاکھوں ابھی بھی عارضی کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔