5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
جسٹس جاوید اقبال کے والدین پر قتل سے قبل تشدد کی گیا، پوسٹمارٹم رپورٹ
جنگ نیوز -
لاہور…سپریم کورٹ کے جج جسٹس جاوید اقبال کے مقتول والدین کو آج بعد دوپہر لاہور میں سپرد خاک کیا جائیگا۔نماز جنازہ آج جامع مسجد عسکری فائیو نزد کلمہ چوک میں ادا کی جائیگی۔دوسری جانب جسٹس جاوید اقبال کے مقتول والدین کے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی ہے ،مقتولین کے جسم پر تشددکے نشانات بھی موجود ہیں۔ذرائع کے مطابق ابتدائی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ مقتولین کی موت چار سے پانچ بجے شام کے درمیان ہوئی ۔جسٹس جاوید اقبال کے مقتول والد عبدالحمید کے ہونٹ پر زخم کانشان ہے جبکہ ان کی والدہ زرینہ بی بی کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اورسینے پر زخم کانشان ہے ۔مقتول عبدالحمید کامعدہ کھانے سے بھراہواتھااوران کی اہلیہ کامعدہ خالی تھا۔ذرائع کے مطابق مقتولین کی فائنل پوسٹ مارٹم رپورٹ پندرہ سے بیس روز کے بعد کیمیکل ایگزامنرجاری کریگا۔ اس سے پہلے ڈیڈ ہاؤس سے ان کی لاشیں جاوید اقبال کے چھوٹے بھائی کرنل( ر) سعید احمد کے گھر111 ای عسکری فائیو میں لے جائیں گے۔ افسوس کیلئے آنیوالوں کیلئے ٹینٹ لگادیئے گئے ہیں اور پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کردی گئی ہے۔جاوید اقبال کے چار بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ جاوید اقبال اپنی اہلیہ کے ہمراہ صبح ساڑھے پانچ بجے اسلام آباد سے لاہور پہنچے تھے۔ ملک عبدالمجید اور ان کی اہلیہ کی لاشیں پیر کی شام پر اسرار حالت میں پائی گئی تھیں جس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور آئی جی پنجاب نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ فارینزک ٹیم اور پولیس کی تفتیشی ٹیموں نے بھی دورہ کیا۔پولیس کے مطابق واقعہ ڈکیتی میں مزا حمت لگتا ہے ۔وزیر قانون کے مطابق جاوید اقبال گمشدہ افراد کے کیس کی سماعت کر رہے تھے یہ سبب بھی ہوسکتا ہے۔کرنل ر یٹائرڈسعید احمد کی درخواست پر تھانہ فیکٹری ایریا میں نامعلوم افراد کے خلاف اقدام قتل کا پرچہ درج کرادیا گیا ہے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی بن گئی ہے۔