5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
جسٹس جاوید کے والدین کا قتل آزاد عدلیہ کو پیغام ہے، انورمنصور
جنگ نیوز -
کراچی …جسٹس جاوید اقبال کے والدین کے قتل کیخلاف سندھ ہائی کورٹ بار اور ججز کا مشترکہ تعزیتی اجلاس ہوا اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر انور منصور خان نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی عروج پر ہے۔ جسٹس جاوید اقبال کے والدین کا قتل اسی زمرے میں آتاہے ،تعزیتی ریفرنس میں جسٹس مشیر عالم، جسٹس امیر ہانی مسلم ، جسٹس مقبول باقر، جسٹس گلزار احمد ، جسٹس سجاد علی شاہ سمیت دیگر ججزاور وکلا نے شرکت کی ۔تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ بار اور بینچ بلا خوف و خطر انصاف کی فراہمی کی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ جسٹس جاوید اقبال کے غم میں بار اور بینچ برابر کے شریک ہیں تعزیتی ریفرنس میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی کہ حکومت عوام ، وکلا اور ججز کے تحفظ میں ناکام ہوچکی ہے ۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ایسے اقدام کئے جائینگے عوام ججز اور وکلا کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے ،اورقاتلوں کو گرفتار کرکے سزادی جائے ۔ انور منصورخان نے کہا کہ واقع سے اندازہ ہورہا ہے کہ آزاد عدلیہ کو کوئی پیغام دیا گیا ہے ، ہم دہشت گردی سے ڈرنے والے نہیں اگر کوئی پیغام دینا چاہتا ہے تو یاد رکھے وکلا اور ججز انصاف کی فراہمی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے