5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
کرزئی طالبان کے نام پر سعودیہ سے تعلقات مضبوط کررہے ہیں، مراسلہ
جنگ نیوز -
کراچی…کابل میں امریکی سفیر نے واشنگٹن کو واضح کیا تھا کہ صدر کرزئی طالبان کیساتھ مفاہمتی عمل اصل میں سیاسی ساکھ اور سعودی عرب سے تعلقات مضبوط کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔ نو دسمبر دو ہزار آٹھ کو کابل میں امریکی سفارت خانے میں قائم مقام ڈپٹی چیف آف مشن Valerie C. Fowler نے یہ مراسلہ وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کے افغان دورے سے قبل لکھا۔ قائم مقام ڈپٹی چیف آف مشن نے رابرٹ گیٹس کی آمد سے پہلے انھیں افغانستان کی مکمل صورتحال سے آگاہ کیا۔ قائم مقام ڈپٹی چیف آف مشن نے ویسے تو کرزئی حکومت کی خراب کارکردگی سمیت کئی معاملات کے بارے میں بتایا لیکن طالبان سے مفاہمت کو امریکی عہدیدار نے محض حامد کرزئی کی جانب سے اپنی سیاسی ساکھ مضبوط کرنے کا اقدام قرار دیا۔ امریکی ڈپٹی چیف آف مشن نے لکھا کہ طالبان کیساتھ مذاکرات حقیقت میں اتنے واضح نہیں جتنا میڈیا میں بتایا جارہا ہے۔طالبان کیساتھ مفاہمتی عمل پر افغان عوام دو گروپوں میں تقسیم ہیں ۔ ایک گروپ اس کا خیر مقدم کررہا ہے جو سمجھتا ہے کہ یہ اقدام جنگ سے تباہ حال ان کے ملک میں خوشحالی کا باعث بنے گا جبکہ غیر پشتون اور سول سوسائٹی کے لوگوں کو خدشہ ہے کہ حامد کرزئی کہیں چور دروازے سے سمجھوتہ نہ کرلیں جس سے صدر کے حریفوں کے سیاسی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ قائم مقام امریکی ڈپٹی چیف آف مشن کا کہنا تھا کہ امریکی عہدیداروں نے صدر حامد کرزئی کو مضبوط پوزیشن پر رہتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کرنے اور امریکا کی سرخ لائنز کو دوبارہ سے طالبان کے سامنے رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔