5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
لاپتہ بلوچوں کو فی الفور بازیاب کرایا جائے ، الطاف حسین
جنگ نیوز -
لندن…جمہوری وطن پارٹی کے رہنماء اوربزرگ سیاسی رہنماء نواب اکبر بگٹی شہید کے پوتے شاہ زین بگٹی نے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ شاہ زین بگٹی نے الطاف حسین سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے حکومت کی جانب سے بلوچستان پیکیج مسترد کردیا ہے اور ہم اپنے حقوق کیلئے28، جنوری کوبڑی بیگم صاحبہ کی سربراہی میں ڈیرہ بگٹی کی جانب لانگ مارچ کریں گے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ حکومت کی جانب سے بلوچ رہنماوٴں پر جھوٹے مقدمات کے قیام اور دیگر حیلے بہانے کرکے لانگ مارچ کے پروگرام کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور ہمیں اسیری کے دوران علاج ومعالجہ کی سہولیت سے محروم رکھا جارہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم ہمیشہ بلوچستان اور بلوچ عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلندکرتی رہی ہے اور ہمیں امید ہے کہ ایم کیوایم آئندہ بھی تعاون کرے گی۔شاہ زین بگٹی نے اس امر پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا کہ ماضی میں بلوچ عوام کے حقوق کیلئے ایم کیوایم نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور ملک بھر کے صحافیوں کے ہمراہ ڈیرہ بگٹی آنے کا پروگرام بنایا تھا جسے بعض سازشی عناصر نے عین وقت پر سبوتاژ کردیا تھا جس پر ہر بلوچ کو دلی افسوس ہے۔انہوں نے 28، جنوری 2011ء کے لانگ مارچ میں شرکت کیلئے ایم کیوایم سے تعاون کی درخواست کی۔ الطاف حسین نے شاہ زین بگٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم بلوچ عوام کے حقوق کیلئے ہرممکن مثبت کردار ادا کرتی رہی ہے اور آپ کی جانب سے لانگ مارچ میں شرکت کی درخواست سے رابطہ کمیٹی کو آگاہ کردیا جائے گا ۔ الطاف حسین نے اسیری کے دوران شاہ زین بگٹی اور انکے ساتھیوں کو علاج ومعالجہ کی سہولیات کی عدم فراہمی کی شدید مذمت کرتے ہوئے صدرآصف علی زرداری ، وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک سے مطالبہ کیاکہ تمام گرفتارشدگان کو علاج ومعالجہ کی سہولیات فراہم کی جائیں ، بڑی بیگم صاحبہ کی شرکت کے باعث لانگ مارچ کے تمام شرکاء کے تحفظ کے اقدامات یقینی بنائے جائیں اوردربدری اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے والے بلو چ عوام کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کئے جائیں ۔ الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کی سلامتی وبقاء پر خطرات منڈلارہے ہیں ۔ حکمراں پاکستان کی سلامتی کی خاطر ہوش مندی سے کام لیں ، ناراض بلوچ رہنماوٴں سے بامقصد مذاکرات کرکے ان کی شکایات کا ازالہ کریں اور لاپتہ ہونے والے سینکڑوں بلوچ رہنماوٴں اور نوجوانوں کو فی الفور بازیاب کرائیں۔