5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
تیونس میں قائم عبوری حکومت کو فوج کی حمایت حاصل ہے
جنگ نیوز -
تیونسیا…تیونس کے سابق صدر زین العابدین کے مستعفی اور سعودی عرب فرار ہونے کے بعد وہاں قائم ہونیوالی عبوری حکومت کو فوج کی حمایت بھی حاصل ہے۔سابق صدر کے استعفیٰ کے بعدقائم ہونیوالی عبوری حکومت کی جانب سے قومی حکومت بنانے کا اعلان آج متوقع ہے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق تیونس کی فوج عبوری حکومت کا ساتھ دے رہی ہے۔فوج نے سابق صدر کے حامیوں اور حکومتی عہدے داروں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارنے شروع کردئیے ہیں جبکہ صدارتی محل کا گھیراؤ بھی کیااور زین العابدین کے سابق سکیورٹی چیف علی سیریاتی اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا ۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق ان افراد پر لوگوں کو اکسانے اور حکومت کیخلاف سازش کا الزام ہے جبکہ سابق وزیر داخلہ رفیق بلحاج قاسم کو بھی گرفتار کرلیا گیا ۔ رپورٹس کے مطابق تیونس کی فوج ملک میں امن و امان بحال کرنے کیلئے عبوری حکومت کے ساتھ ہے۔تیونس میں کرپشن اور بے روز گاری سے تنگ عوام کے احتجاج اور مظاہروں نے زین العابدین کو حکومت چھوڑنے ا ور ملک سے فرار ہونے پر مجبور کردیاتھا۔