5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
پی سی اوججز کیس: 3 نومبر کے بعد ہوا، وہ عتاب تھا،جسٹس جواد خواجہ
جنگ نیوز -
اسلام آباد…پی سی اوججزکوتوہین عدالت نوٹسزکیس کی سماعت کے دوران سابق جج عبدالحمیدڈوگرکے وکیل نے کہاہے کہ ان کے موکل کیخلاف امتیازی کارروائی کی جارہی ہے، وہ زیر عتاب ہے،جسٹس جواد خواجہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ جو3 نومبر کے بعد ہوا، وہ عتاب تھا، توہین عدالت کا نوٹس تو عتاب نہیں۔ جسٹس ایم اے شاہد صدیقی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چار رکنی بنچ نے مقدمہ کی سماعت کی ۔ابراہیم ستی نے دلائل میں کہاکہ31جولائی سے پہلے کے حالات کے تناظرمیں پی سی او کا حلف لینا درست قرار دیا گیا تھا،3 نومبر کے اقدام کی حمایت میں اس وقت کی پارلیمنٹ نے قرارداد بھی منظور کی۔ اس پر جسٹس خلجی عارف نے کہا کہ کیاپارلیمنٹ اور انتظامیہ کے ہوتے ہوئے، آرمی چیف ایسا اقدام کرسکتاہے۔ ابراہیم ستی نے مزید دلائل میں کہا کہ عبدالحمیدڈوگر کی سربراہی والے بنچ کو جنرل مشرف نے لکھ کردیا تھا کہ31 دسمبر تک یونیفارم اتار دے گا، اس پر جسٹس طارق پرویز نے کہا کہ وہ اس کاکریڈٹ نہ لیں ، تین نومبرہواہی اس لئے تھاکہ بعدمیں ایساکرناتھا۔