5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
پاکستان اسٹیل کے فرنسز مکمل بند ہو سکتے ہیں، میر ہزار خان بجارانی
جنگ نیوز -
کراچی…راجہ کامران…وفاقی وزیر صنعت و پیداوار میر ہزار خان بجارانی کا کہناہے کہ پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ اور خام مال کے مسائل حل کے لئے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا جاسکتا، مگر صورتحال کی خرابی کی وجہ سے بلاسٹ فرنسز مکمل طور پر بند ہوسکتے ہیں۔ وفاقی وزیر صنعت و پیداوار میر ہزار خان بجارانی نے کراچی میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں بتایا کہ پاکستان اسٹیل کو منافع بخش ادارہ بنانے کے لئے کام جاری ہے مگر وہ اس سلسلے میں کوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتے۔ میر ہزار خان بجارانی کا کہنا اپنی جگہ مگر ملک کے سب سے بڑے صنعتی کمپلیکس کا ٹائم فریم لگتا ہے ختم ہوتا جارہا ہے اس وقت پاکستان اسٹیل کے چیف ایگزیکٹو سمیت پوری انتظامیہ عارضی ہے اور کوئی فردبھی میٹلرجی کا بڑاکارخانہ چلانے کی تعلیم اور تجربہ نہیں رکھتے۔ آئرن میکنگ ڈیپارٹمنٹ کے انتظامیہ کو لکھے گئے خط میں استداعا کی گئی ہے کہ ادارے کو بچانے کے لئے فوری طور پر خام مال کا بندوبست کیا جائے۔اپریل 2009 سے پاکستان اسٹیل کے دونوں بلاسٹ فرنسز کو 5 ہزار 2سو گھنٹوں سے زائد بند رکھا گیا ہے اور اب ایک مرتبہ کی بندش 30 گھنٹوں تک پہنچ گئی ہے، جس سے بلاسٹ فرنس میں فنی خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں اور فرنسز کی خام لوہے سے کثافتوں کو نکالنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹیل کے تمام کارخانے ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور اگر بلاسٹ فرنسز بند ہوئے تو پورا کارخانہ بند ہوجائے گا۔