5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
ڈینیل پرل قتل، خالد شیخ پر اعتراف جرم کے باوجود فرد جرم عائد نہیں کی گئی
جنگ نیوز -
واشنگٹن …فارن ڈیسک… امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے رپورٹر ڈینیل پرل کے قتل کا نیا پہلو سامنے آ گیا، پرل کے قتل کی ویڈیو میں ان دیکھے شخص کا ہاتھ خالد شیخ کا ہی تھا۔ایف بی آئی اے کے سامنے خالد شیخ نے اعتراف جرم کر لیا تھا لیکن امریکا نے اس پر فرد جرم عائد نہیں کی ۔امریکی اخبار’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق نو سال قبل وال اسٹریٹ جرنل کے رپورٹر کو پاکستان میں قتل کرنے کی تفصیلی رپورٹ جاری کردی گئی ،خالد شیخ جو 11ستمبر کے حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا اور اس وقت گوانتا نامو بے کی جیل میں ہے اس نے2007میں فوجی عدالت کے سامنے نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے ڈینیل پرل کو قتل کیا تھا لیکن اس کے ملوث ہونے میں شک وشبہات ہیں اور امریکا نے ڈینیل پرل کے قتل کا الزام خالد شیخ پر عائد نہیں کیا۔ نئی رپورٹ کے مطابق پرل کے قتل پر جارج ٹاوٴن یونی ورسٹی کے فیکلٹی ارکان اور طلبا نے ویسکولر ٹیکنالوجی یا شریانو ں کے ملاپ کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ ویڈیو میں پرل کو قتل کے وقت نہ دکھائی دینے شخص کا ہاتھ خالد شیخ کا ہی ہے خالد شیخ نے ایف بی آئی کو بتایا تھا کہ القاعدہ کی اعلیٰ کمانڈ نے پرل کو اصلی اغوا کاروں سے اپنے قبضے لینے میں کہا ہے۔31ہزار الفاظ پر مشتمل رپورٹ کوpublicintegrityپر جاری کیا گیا۔38سالہ ڈینیل پرل کو23جنوری2002کو کراچی سے اغوا کیا گیا اور بعد میں قتل کردیا گیاتھا۔