5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
حج اسکینڈل: تحقیقاتی اداروں میں اعلیٰ کنٹریکٹ آفیسرز کی فہرست طلب
جنگ نیوز -
اسلام آباد…سپریم کورٹ نے حج اسکینڈل کیس کی ناقص تحقیقات پر ڈی جی ، ایف آئی اے کیخلاف کارروائی کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے نئے تحقیقاتی آفیسر کے دائرہ اختیار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے، عدالت نے تمام تحقیقاتی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر کنٹریکٹ آفیسرز کی فہرست طلب کرکے انہیں نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔چیف جسٹس افتخارچوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چھ رکنی بنچ نے حج اسکینڈل کیس کی سماعت کی ، چیف جسٹس نے کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے نے یہ کیس خراب کردیا ہے ، اب پہلے اس کیخلاف ایکشن لیں گے،انہوں نے کہا جب زین سکھیرا کا پتہ چل گیا تو اس کے خلاف تفتیش کیوں نہیں ہوئی ، اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے کا نیا ایڈیشنل ڈی جی جاوید بخاری، اس کیس کی تحقیقات میں مکمل آزاد ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ وہ ڈی جی ایف آئی اے کے ماتحت کام کرے گا۔ عدالت میں موجود جاوید بخاری نے کہا کہ انہوں نے بھی اپنے تقرر پر تحفظات ظاہر کئے ہیں ،جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ کیس میں جن دفعات کی ضرورت تھیں وہ نہیں بڑھائی گئیں اور ایف آئی اے نے بنکوں سے قانونی طور پر اپروچ بھی نہیں کیا ۔چیف جسٹس نے کہا کہ وسیم احمد کا ایف آئی اے میں تقرر اس لئے ہواکہ پانچ چھ بڑے کرپشن کیسز زیرسماعت ہیں، عدالت نے پولیس ، ایف آئی اے سمیت تمام تحقیقاتی اداروں میں آئی جی ، ڈی آئی جی اور دیگر سینئر عہدوں پر کنٹریکٹ تقرر کی تفصیلات طلب کرلیں ، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہدایت کی گئی کہ وہ کل فہرست دیں جبکہ رجسٹرار آفس کو لسٹ آنے پر ان کنٹریکٹ آفسیرز کو بھی نوٹس جاری کرنے کا کہا گیا ، بعد میں حج اسکینڈل کیس کی سماعت 27 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔