تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48

پنجاب اسمبلی : نازیبا الفاظ کا بے دریغ استعمال،رانا ثناء اللہ پر دن بھاری گزرا

جنگ نیوز -
لاہور…پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں آج ارکان نے ایک دوسرے کے خلاف نازیبا الفاظ کا بے دریغ استعمال کیا، پنجاب اسمبلی میں عوام کے منتخب نمائندے اخلاقیات کی حدیں پار کرتے نظر آئے۔یہ کھیل شروع ہوا وقفہ سوالات سے، اپوزیشن کی ثمینہ خاور حیات نے جب انکشاف کیا کہ سابق چیف سیکرٹری جاوید محمود بھی گرین ٹریکٹر اسکیم سے ٹریکٹر لے گئے تو رانا ثنا اللہ نے اس کی تردید کچھ الگ ہی انداز میں کی اور کہا کہ وہ دور ختم ہوگیا جب شرم وحیا نہیں ہوتی تھی، چیف سیکریٹری کے بیٹے کا ٹریکٹر ضرور نکلا لیکن انہوں نے یہ ٹریکٹر نہیں لیا ۔اپوزیشن کو ڈس انفارمیشن سے قبل ریکارڈ دیکھ لینا چاہیے۔یہ سن کر اپوزیشن کہاں چپ رہتی، ق لیگ کے عامر سلطان چیمہ نے وزیر قانون کو ماضی یاد دلانے کی کوشش کی، ان کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ کی مونچھیں اور سر ہی نہیں مونڈھا گیا، ان کے ساتھ اور بھی بہت کچھ ہوا۔عامر چیمہ کی توپ ابھی گولے برسا رہی تھی کہ ثمینہ خاور حیات1991 کا اسمبلی ریکارڈ لہرا کر رانا ثنا اللہ کو للکارنے لگیں۔انہون نے کہا کہ 91 19ء میں رانا صاحب نے جو باتیں کی تھیں میرے پاس اس کا ریکارڈ موجود تھا، ریڈیو برادران کہہ کر اپنی قیادت کا نام لیا تھا، یہ آج ہمیں بے شرم کہتے ہیں، ان کو خود شرم آنی چاہئے، یہ کون ہوتے ہیں ہمیں بے شرم کہنے والے۔رانا ثناا للہ کے لئے پنجاب اسمبلی کا یہ دن خاصا بھاری ثابت ہوا، اپوزیشن نے تو انہیں لتاڑا ہی، ساتھ میں پیپلز پارٹی کی صغیرہ اسلام نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو ڈالے، ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ رانا ثنا اللہ سے بڑا سانپ کون ہوسکتا ہے،جو جمہوریت کو آئے دن آہستہ آہستہ ڈستا رہتا ہے۔یہ سب دیکھ کر ن لیگ کے رانا ارشد اور دوسرے ارکان کے خون نے بھی جوش مارا، راناثنا اللہ کے ساتھ ماضی میں کئے گئے سلوک کو جمہوری جدوجہد قرار دیا۔ یہی نہیں وہ اپوزیشن کو فوجیوں کے بوٹ پالش کرنیوالے بھی کہہ گئے۔پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی ذوالفقار گوندل نے کہا کہ اگرجمہوریت کیلئے ہمارے سراور مونچھیں مونڈھی گئی ہیں تو ہمیں اس پر فخرہے کہ قوم کی عزت کیلئے کیا جب یہ فوجیوں کے بوٹ پالش کررہے تھے،اگر اس وقت جمہوری جدوجہد میں وزیرقانون کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو ان لوگوں کو شرم آنی چاہیے اور قوم سے معافی مانگنی چاہئے نہ کہ اس پر فخر کریں۔پنجاب اسمبلی میں یہ سب کچھ طلبا کی موجودگی میں ہوا، جو ایوان کی کارروائی دیکھنے کے لئے گیلری میں بیٹھے تھے۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی خواتین ارکان"چورمچائے شور"کے نعرے لگاتی رہیں،اسپیکرنے سارے نازیبا الفاظ کو کارروائی سے حذف کرادیا۔


متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.