5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
چوری اور چھینی گئی1666گاڑیاں برآمدکیں،ذوالفقار مرزا
جنگ نیوز -
کراچی…صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے کہا ہے کہ یکم مئی 2008 سے اکتوبر2008 تک سندھ میں خواتین کے خلاف جرائم اور زیادتی کے 114، گینگ ریپ کے چھ اور ہراساں کرنے کے 9 مقدمات درج ہوئے ،چوری اور چھینی گئی1666گاڑیاں برآمدکی گئیں جبکہ وفاقی حکومت سے بندوں کی مرمت اور بحالی کیلئے فوری فنڈ ریلیز کرنے کی قرارداد سندھ اسمبلی میں اتفاق رائے سے منظورکرلی گئیں۔صوبائی وزیر داخلہ نے آج سندھ اسمبلی کے اجلاس میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ مئی2008 سے اکتوبر 2010تک خواتین پر گھریلو تشدد کے 37 ، جلانے کا ایک اور خواتین پر جسمانی تشدد کے 38 کیسز رپورٹ ہوئے ، چوری اور چھینی گئی1666گاڑیاں برآمدکیگئیں جن میں سے100مالکان کو واپس کردی گئیں۔ گاڑیاں واپس کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم گاڑیاں واپس کرنے کیلئے اعلان کرتے ہیں بعد میں انہیں نیلام کردیا جاتا ہے ۔ماضی میں لوگ ان گاڑیوں پر قبضہ کرکے ہضم کر جاتے تھے پہلی مرتبہ اس حکومت نے6کروڑ روپے کی گاڑیاں نیلام کی ہیں جبکہ نظارت کی گاڑیوں کی نیلامی عدالتی نگرانی میں کی جارہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انشورنس کی وجہ سے لوگ چھینی یاچوری ہونے والی تباہ شدہ گاڑیاں واپس نہیں لیتے۔قیدیوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہتعلیم حاصل کرنے،تہواروں اور خصوصی یوم پر قیدیوں کو مدت میں معافی دی جاتی ہے،اور قیدیوں کی رہائی کے بعد گھر تک جانے کے لیے بس یا ٹرین کا کرایہ دیا جاتا ہے،ان کا کہنا تھا کہ رہا ہونے والے قیدیوں کو راشن یا دیگر سہولیات فراہم نہیں کی جاتی لیکن موجودہ حکومت یہ کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ،وزیر داخلہ نے بتایا کہ قائد آباد، عاشورہ اور چہلم بم دھماکوں کے متاثرین اور لواحقین کیلئے حکومت سندھ نے چار کروڑ تیس لاکھ روپے کی رقم مختص کیجن میں سے تین کروڑ بارہ لاکھ روپے معاوضے کی ادائیگی کی گئی ،لیکن چہلم کے چودہ اور عاشورہ دھماکے کے نو متاثرین کا پتا نہیں چل سکا جن کامعاوضہ دینا باقی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک جرمانے کی رقم بڑھانے کیلئے سمری وزیر اعلی سندھ کو بھیجی ہوئی ہے ، ٹریفک پولیس کو حاصل ہونے والی آمدنی سے تیس فیصد آلات کی خریداری اور اچھی کارکردگی پر ایوارڈ کے لئے دیئے جاتے ہیں ۔