5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
کے ای ایس ای کے برطرف ملازمین کا احتجاجی دھرنا جاری
جنگ نیوز -
کراچی…کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے برطرف ملازمین کا ایم ڈی آفس کے سامنے احتجاجی دھرنا جاری ہے، برطرف ملازمین کا کہنا ہے کہ نہ خود گھر جائیں گے نہ افسران کو جانے دیں گے۔کراچی میں گزشتہ روز برطرفی کے لیٹرز ملنے کے بعد کے ای ایس سی ملازمین آج صبح احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر آ گئے، ملازمین گورنر ہاؤس کے قریب جمع ہوئے اوروہاں سے گزری میں کے ای ایس سی کے ہیڈ آفس کا گھیراؤ کیا ۔ اس دوران مشتعل افراد نے دفتر میں گھس کر زبر دست توڑ پھوڑ کی،افسران کی2 سو سے زائد کاروں کو شدید نقصان پہنچایا اور پارکنگ لاٹ میں آگ لگادی۔ کے ای ایس سی کے مزدور رہنما بھی موقع پر پہنچ گئے اور انھوں نے مشتعل افراد کو ہیڈ آفس سے نکالا، فائر بریگیڈ نے موقع پر پہنچ کر آگ بجھائی تاہم اس وقت تک تین گاڑیاں مکمل جل چکی تھیں۔ تمام کارروائی کے دوران ٹی پی او کلفٹن طارق دھاریجو رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ موجود رہے لیکن کوئی کارروائی نہیں کی۔کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کی سی بی اے یونین کے چیئر مین کا کہنا تھا کہ ملازمین کی بحالی تک احتجاج جاری رہیگا۔دوسری طرف کے ای ایس سی ترجمان کے مطابق انتظامیہ نے غیرپیدواری اور غیر بنیادی شعبوں کوختم کیا ہے۔کے ای ایس سی انتظامیہ نے ان شعبوں کے 4500 ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیش کش کی تھی جس کی مدت رواں سال15جنوری کوختم ہوگئی،اسکیم کے تحت 375ملازمین پہلے ہی نوکری چھوڑ چکے ہیں،جبکہ برطرف ملازمین کو قوانین کے مطابق بقایاجات 1 ماہ کی تنخواہ کے ساتھ دیے جائیں گے۔