تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48

پاکستان ناکامی کی طرف گامزن ہے، فلسطینی رہمنا/وکی لیکس

جنگ نیوز -
کراچی…وکی لیکس نے فلسطینی سرزمین سے انکشافات کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ فلسطینی مذاکرات صائب عریقات کا یہ راز بھی فاش ہوگیا جس میں اْنھوں نے امریکی نمائندے جارج مچل سے کہا تھا کہ پاکستان ناکامی کی طرف گامزن ہے جب کہ عرب ممالک مشرق وسطیٰ کیلئے کچھ نہیں کررہے۔ محمود عباس نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کی مخالفت میں اْنکے حریف حسین موسووی کو 50 ملین ڈالر کا چندہ بھی دیا۔اکتوبر 2009 میں صائب عریقات کی امریکی نمائندہ خصوصی جارج مچ اور قومی سلامتی کے مشیر جنرل جیمز جونز سے ملاقاتوں کی تفصیل وکی لیکس نے جاری کی ہے جس میں صائب عریقات نے یہ بھی انکشاف کیا کہ فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے ایرانی ہم منصب محمود احمدی نژاد کی مخالفت میں پچاس ملین ڈالر کا چندہ دینے کیلئے ایک فلسطینی تاجر کو راضی کرلیا ہے۔ محمود احمدی نژاد پر فلسطینی انتظامیہ کو بھی اعتبار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے حریف میر حسین موسووی کیلئے پچاس ملین ڈالر کا چندہ دینے پر فیصلہ کیا گیا۔ یہ رقم حسین موسووی کی صدارتی مہم چلانے کے مقصد سے ایک ریڈیو اسٹیشن قائم کرنے کیلئے دی گئی ۔ امریکی صدر براک اوباما کے مشرق وسطیٰ کے کیلئے مقرر کیے گئے خصوصی نمائندے جارج مچل سے ملاقات کے دوران اعلیٰ فلسطینی عہدیدار صائب عریقات کا کہنا تھا کہ یہ وقت مشر وسطیٰ میں سچ بولنے کا ہے۔ احمدی نژاد غزہ اور لبنان تک آگئے ہیں۔ پاکستان ناکامی کی طرف جارہا ہے جبکہ عرب ممالک بھی کچھ نہیں کررہے۔ فلسطینی مذاکرات کار کہنا تھا کہ امریکا دورے میں صدر اوباما سے کہا جائے گا کہ فلسطینی انتظامیہ پاکستان ، صومالیہ ، افغانستان اور عراق میں ان کی مدد کرسکتی ہے جبکہ سعودی عرب ، مصر ، شام اور اردن کو چاہیئے کہ وہ اوباما سے پوچھیں کہ وہ کس طرح امریکا کی مدد کرسکتے ہیں۔ صائب عریقات کا کہنا تھا کہ بعض ممالک اگر سمجھتے ہیں کہ فلسطینی تنظیم حماس کو کارڈ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے تو فلسطینی انتظامیہ بھی ان ممالک کیساتھ ایسا ہی سلوک کریگی۔ صائب عریقات کے مطابق ایران کھیل کھیل رہا ہے اور حماس کو کارڈ کے طور پر استعمال کررہا ہے۔برطانوی اخبار دی جارجیئن کے مطابق دو ہزار نو کے شروع میں ہی فلسطینی انتظامیہ نے واضح کردیا تھا کہ خطے میں امریکا اور یورپی یونین کی پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے ترجیحات ترتیب دی جائیں گی۔ محمود عباس کی انتظامیہ نے امریکی حکام سے کئی ملاقاتوں میں آزاد فلسطینی ریاست قائم کرنے پر اس لیے بھی زور دیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس سے مشرق وسطیٰ میں روشن خیالی کی حکمت عملی کو فروغ دینے اور القاعدہ کیخلاف لڑنے میں مدد ملے گی۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.