5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
نئی مانٹری پالیسی جا ری، موجودہ شرح سودبرقراررکھنے کافیصلہ
جنگ نیوز -
کراچی . . . . . اسٹیٹ بینک نے نئی مانٹری پالیسی جا ری کر دیا ہے جس میں موجودہ شرح سودکوبرقراررکھنے کافیصلہ کیا گیا ہے ،گورنراسٹیٹ بینک شاہدکاردار نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے اگلے 2ماہ کیلئے مانٹری پالیسی کا اعلان کیا ۔گورنر اسٹیٹ بینک کا نئی مانٹری پالیسی کے حوالے سے کہنا ہے کہ شرح سود14فیصدپربرقراررکھی گئی ہے، شرح سود مستحکم رکھنے کا فیصلہ جاری کھاتوں کے خسارے میں نمایاں بہتری کے باعث کیاگیا۔ نوٹ چھاپنے سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ،شاہد کاردار نے بتایا کہ حکومت نے مرکزی بینک کے ساتھ مل کرقرض میں کمی کا منصوبہ بنا لیا ہے۔حکومت مرکزی بینک سے لیے قرض کو ستمبر 2010 کی سطح پر رکھے گی،جون2010سے ستمبر2010تک حکومت نے119ارب روپے قرض لیا۔انھوں نے کہا کہ معیشت کو بہت مسائل کا سامنا ہے۔حالیہ سیاسی بات چیت مثبت ہے اور بینک اس کی حمایت کرتا ہے۔معیشت کو شدید بحران سے بچانے کے لیے سیاسی قائدین اقدامات کریں۔ شاہد کاردار کا کہنا تھا کہ سیاسی اتفاق رائے کے نتیجے میں اخراجات میں کمی اور محاصل میں اضافہ متوقع ہے۔شاہد کاردار نے کہا کہ مالی خسارے کا بیرونی کھاتوں پر اثر نہیں ہوا جب کہ ملک کے زرمبادلہ زخائر ریکارڈ بلندی پر پہنچ گئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ جون سے ستمبر2010 تک حکومت نے 119 ارب روپے قرض لیے جب کہ کل تک مرکزی بینک سے لیا گیا حکومتی قرض 122 ارب روپے کی سطح پر تھا۔ٹیکس کی اصلاحات ملتوی ہونا تشویش ناک ہے جب کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے سے سبسڈی میں اضافہ ہوا ۔شاہد کاردار نے کہا کہ حکومتی قرضوں میں اضافے کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے اورمستقبل قریب میں مہنگائی سے چھٹکارا پانا ممکن نہیں۔