5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
مصر میں طاقت کا اصل سرچشمہ فوج ہی ہے،جولائی 2009کا مراسلہ
جنگ نیوز -
قاہرہ . . . . مصر کی حکمراں جماعت کے سینئر رہ نما اور سابق وزیر ڈاکٹر علی الدین حلال Dessouki نے فوج کے اقتدار میں آنے سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ مصر میں طاقت کا اصل سرچشمہ فوج ہی ہے۔تیس جولائی دو ہزار نو کو قاہرہ میں اکنامک منسٹر قونصلر ڈونلڈ ْبلوم کے واشنگٹن کو بھیجے گئے مراسلے کے مطابق ڈاکٹر علی الدین نے ان قیاس آرائیوں کو یکسر مسترد کردیا کہ حسنی مبارک کے بعد فوج اقتدار میں آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سویلین حکومت بھی آئی تو مصری فوج اقتدار کی منتقلی منظم طریقے سے یقینی بنائے گی۔ حسنی مبارک کے دور صدارت میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہنے والے سابق وزیر ڈاکٹر علی ال دین کا کہنا تھا کہ مصر کے عوام کافی مذہبی ہیں جبکہ حسنی مبارک سیاست اور مذہب کو آپس میں ملانے کے سخت مخالف ہیں۔ امریکی سفیر سے واشنگٹن کو لکھے گئے مراسلے میں بتایا کہ ڈاکٹر علی الدین نے ان سے ملاقات میں ایک اہم پیغام یہ دیا کہ ذہن نشین کرلیں ، مصر میں طاقت کا اصلہ سرچشمہ فوج ہے۔ سابق وزیر نے بتایا کہ اگرچہ فوج روزانہ کی بنیاد پر حکمرانی کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتی لیکن فوجی عہدیداران قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں اور کسی بھی موقع پر اقتدار کی منتقلی کے عمل کو سبوتاژ نہیں ہونے دیں گے۔ امریکی سفیر کے ایک سوال پر سابق مصری سفیر نے واضح کیا کہ وہ یا حسنی مبارک کسی بھی سیاسی جماعت کو مذہبی ایجنڈے کیساتھ ہرگز برداشت نہیں کریں گے چاہے وہ مسلم ایجنڈا ہو یا کرسچن۔