5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
مشرق وسطیٰ پالیسی میں تبدیلی کیلئے دباؤ ہے، ہلیری کا اعتراف/وکی لیکس
جنگ نیوز -
واشنگٹن . . . . . دو ہزار نو میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اعتراف کیا تھا کہ مشرق وسطیٰ سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کیلئے دباوٴ ہے لیکن موجودہ وقت دروازے کھولنے کا نہیں بلکہ دباوٴ جاری رکھنے کا ہے۔ ڈچ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے قوانین صرف فلسطین پر نہیں اسرائیل پر بھی لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔تیرہ اپریل دو ہزار نو کو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی سیکریٹری Paul Wohlers کے مراسلے میں وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی ڈچ وزیر خارجہ Verhagen سے ملاقات کی تفصیل لکھی گئی۔ مشرق وسطیٰ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ مشرق وسطیٰ امن عمل کے فریقین کے وضح کیے گئے قوانین کی پاسداری کیلئے حماس پر دباوٴ جاری رکھا جائے۔ اس بات پر ڈچ وزیر خارجہ نے اتفاق تو کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ یورپی کونسل میں اس معاملے پر وہ خود کو تنہا محسوس کررہے ہیں کیونکہ کوئی ایشو پر نہیں بول رہا۔ ڈچ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ایسا ظاہر ہورہا ہے کہ ہم حماس کو مزید بھڑکارہے ہیں۔ وزیر خارجہ Verhagenنے زور دیا کہ فلسطین کیساتھ ساتھ اسرائیل کو بھی چاہیے کہ وہ انسانی حقوق سے متعلق قوانین کی پاسداری یقینی بنائے کیونکہ اسرائیل پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات ہیں ناکہ فلسطینیوں پر۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ پالیسی میں تبدیلی کیلئے دباوٴ کو بخوبی سمجھتی ہے لیکن یہ وقت دروازے کھولنے کا نہیں بلکہ دباوٴ جاری رکھنے کا ہے۔ اسرائیل کے معاملے پر ہلیری کلنٹن نے یقین دلایا کہ اوباما انتظامیہ یہودی آباد کاریوں کا سلسلہ ختم کرنے کیلئے زور دے گی۔