5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
مصر: مظاہروں میں شدت آگئی، حسنی مبارک پر بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ
جنگ نیوز -
قاہرہ ... مصر میں ایک طرف حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آتی جارہی ہے تو دوسری طرف صدر حسنی مبارک پر بین الاقوامی دباؤ بھی بڑھتا جارہا ہے۔ امریکی صدر بارک اوباما نے واضح الفاط میں کہہ دیا ہے کہ مصر میں اقتدار کی منتقلی عوامی خواہشات کی ترجمان حکومت کو ہونی چاہئے ۔ دارالحکومت قاہرہ سمیت مصر کے مختلف شہروں میں چھ روز گذرنے کے باوجود لوگ بدستور سڑکوں پر ہیں ۔ جلاؤ گھیراؤ کی وجہ سے قاہرہ میدان جنگ کا منظر پیش کررہا ہے جہاں رات میں بھی فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں ۔ پولیس نے وزارت داخلہ کی ہدایت کے بعد دوبارہ سڑکوں پر گشت شروع کردیا ہے ۔ جمعے کو فوج کی تعیناتی کے بعد پولیس غائب ہوگئی تھی سرکاری ٹی وی کے مطابق مظاہروں کے دوران گرفتار افراد کی تعداد تین ہزار دو سو ہوگئی ہے ۔ سیکیورٹی کی بدترین صورتحال ، جلاؤ گھیراؤ اور لوٹ مار کے واقعات نے عام لوگوں کو پریشان اور اپنی حفاظت خود کرنے پر مجبور کردیا ہے ۔ جن سڑکوں پر کل تک ٹریفک رواں دواں تھی وہاں اب نو جوان فٹ بال کھیلتے ظر اتے ہیں عدم تحفظ کے احساس سے دوچار عام مصریوں کی اس پریشانی کا فی الحال کوئی حل نظر نہیں آتا ۔ تاہم حکومت نے یہ ضرور کیا کہ کرفیو میں مزید ایک گھنٹے کی توسیع کردی اور اس کا دورانیہ سترہ گھنٹے تک پہنچ گیا ہے ۔ لیکن کرفیو کی پابندی کہیں ہوتی نظر نہیں آتی ۔ سیاحوں اور مصری شہریوں نے ملک سے نکلنا شروع کردیا ہے جبکہ کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو مصر نہ جانے کی ہدایت کی ہے ۔ صدر حسنی مبارک صورت حال پر قابو پانے کی سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں ۔ انہوں نے گذشتہ روز فوجی ہیڈکوارٹر میں اجلاس کی صدارت کی جس میں ملکی صورتحال پر غور کیا گیا ۔ صدر نے نئے وزیر اعظم احمد شفیق کو خط لکھ کر مہنگائی کم کرنے اورسبسڈی برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ادھر واشنگٹن میں مصر کی صورت حال پر صلاح و مشورے جاری ہیں ۔ صدر بارک اوباما نے سعودی عرب کے شاہ عبداللہ اور ترکی ، اسرائیل اور برطانیہ کے وزرائے اعظم کے ساتھ فون پر تبادلہ خیال کیا ۔ وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق صدر اوباما نے کہا کہ مصر میں اقتدار ایسی حکومت کو منتقل کیا جائے جو عوامی خواہشات کی ترجمان ہو ۔ لندن میں برطانوی حکومت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کیمرون اور صدر اوباما نے مصر میں جامع سیاسی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ ادھر جرمن چانسلر اینجلا مرکل نے بھی مصری صدر کو فون کیا اور ان پر زور دیا کہ سیکیورٹی فورسز کو تشدد سے باز رہنے کا حکم دیا جائے ۔