5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
#تیل کی یکساں قیمتیں : 2ماہ قومی خزانے سے 7ارب روپے خرچ کئے گئے
جنگ نیوز -
اسلام آباد…عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھنے اور ملک میں دو ماہ سے یکساں رکھنے پر قومی خزانے سے تقریباًسات ارب روپے خرچ کیے گئے۔گذشتہ کئی ماہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ عالمی معیشت میں بہتری کے باعث ہو رہا ہے۔ملک میں دسمبر میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ ہوا جبکہ جنوری میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے دباؤ کے باعث حکومت کو اضافے کا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ حکومت نے دسمبر میں تیل کی قیمت نہ بڑھانے پر دو ارب روپے خرچ کیے تھے جبکہ جنوری کے دوران پانچ ارب روپے قومی خزانے سے خرچ کیے گئے ہیں۔نومبر2010 کے دوران پاکستان کی جانب سے خریدے جانیوالے عرب لائٹ سی کروڈ کی قیمت83 ڈالر39 سینٹس فی بیرل رہی تھی تاہم اس قیمت کو دسمبر میں لاگو نہیں کیا گیا اور یوں ملک میں تیل کی قیمتیں اکتوبر کی عالمی قیمت کی سطح پر منجمد رہیں۔ اکتوبر میں عرب لائٹ سی کروڈ کی قیمت79 ڈالر71 سینٹس فی بیرل تھیں۔دسمبر کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت88 ڈالر94 سینٹس فی بیرل ہو گئیں لیکن اس اضافے کو بھی عوام پر منتقل نہیں کیا گیا۔ اس دوران خام تیل کی قیمت میں مسلسل اضافہ جاری رہا اور سال کے پہلے ماہ کے دوران میں عالمی منڈی میں عرب لائٹ سی کروڈ کی اوسط قیمت تقریباً94 ڈالر50 سینٹس فی بیرل رہی ہے۔ اس طرح اکتوبر سے اب تک عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں تقریباً15 ڈالر فی بیرل کا اضافہ ہو چکا ہے ۔اب جنوری کے اختتام پر مصر میں صدر حسنی مبارک کے مخالف مظاہروں کے بعد خام تیل کی قیمت میں مزید اضافے کا رحجان دیکھا جا رہا ہے اور اگر ڈکٹیٹروں کے خلاف تیونس سے شروع ہوا احتجاج مصر کے بعد کسی اور تیل پیدا کرنے والے عرب ملک تک پھیلا تو اسکا نتیجہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت میں مزید اضافے کی صورت میں نکلے گا، جس کے باعث لامحالہ پاکستان میں تیل مصنوعات کی قیمت بڑھ سکتی ہے اور اس ممکنہ اضافے پر عوامی ردعمل کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔