تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48

ڈی ایس پی رشید کا شمار دھماکوں کی تفتیش کرنیوالے سینئر افسروں میں ہوتا تھا

جنگ نیوز -
پشاور...پشاورکے علاقے قمر دین گڑھی میں خود کش دھماکے میں شہید ہونے والے ڈی ایس پی رشید خان نے34 سال پولیس میں ملازمت کی ۔ وہ تخریبی کارروائیوں کی تفتیش کرنیوالے سینئر پولیس افسروں میں شمار ہوتے تھے۔ رشید خان 14 اکتوبر 1954 میں ضلع صوابی میں پیدا ہوئے ۔14 جولائی1977 کو پولیس میں اے ایس آئی بھرتی ہوگئے۔ یکم جنوری1991کو انہیں سب انسپکٹر کے عہدے پر ترقی دی گئی جبکہ6 دسمبر2001 کو وہ انسپکٹر بن گئے دو سال بعد2003 کو وہ ڈی ایس پی کے عہدے تک پہنچے ۔ انہوں نے پشاور کے تمام تھانوں سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دیں۔گذشتہ سال گلبہار کے علاقے آفریدی گڑھی میں انہیں خود کش حملے کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ بال بال بچ گئے ۔ رشید خان پشاور صدر سرکل کے ڈی ایس پی تھے ۔ بڈھ بیر اور متنی کے علاقے بھی ان کے نگرانی میں آتے تھے۔ پیر کو وہ معمول کے مطابق بڈھ بیر جا رہے تھے کہ وخو پل کے نیچے خود کش حملہ آور نے ان کی گاڑی کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس میں ڈی ایس پی رشید خان ، ان کا ڈرائیور ، محافظ اور دو راہگیر جاں بحق ہوگئے ۔34 سال تک پولیس میں خدمات انجام دینے والے رشید خان دہشتگردی کے واقعات کی چھان بین کرنے والے سینئر پولیس افسروں میں شمار ہوتے تھے۔


متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.