5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
نئے سال کا پہلا مہینہ: پشاور میں پانچ دھماکے، 9افراد لقمہ اجل بن گئے
جنگ نیوز -
پشاور...جنوری کا آخری دن پشاور پر کافی بھاری گذرا۔ یکے بعد دیگرے دو دھماکوں میں ڈی ایس پی سمیت چھ افراد جاں بحق اور بیس زخمی ہوئے وخو پل کے بعد تاج آباد دھماکے سے شہر لرز اٹھا۔ پورے مہینے کے دوران پانچ دھماکوں میں ڈی ایس پی سمیت نو افراد جاں بحق اور44 زخمی ہوگئے۔پشاور میں سال2011 کا پہلا دھماکہ6 جنوری کو بشیر آباد کے علاقے میں ایک اسکول کے قریب ہوا۔ صبح سویرے ہونے والے اس دھماکے میں ایک بچہ زخمی ہوگیا۔12 جنوری کو شکئی ہندکیاں میں ایک اسکول وین کو نشانہ بنایا گیا چند منٹوں کے اندر دو دھماکوں میں دو اسکول ٹیچر بہنیں جاں بحق اور تین بچوں سمیت سات افراد زخمی ہوگئے ۔ پشاور میں تیسرا دھماکا19 جنوری کو نوتھیہ میں ایک اسکول کے باہر ہوا، جس میں ایک راہگیر جاں بحق اور پانچ بچوں سمیت پندرہ افراد زخمی ہوگئے۔ رواں ماہ کا چوتھا دھماکا31 جنوری کو کوہاٹ روڈ پر گڑھی قمر دین کے قریب وخو پل کے نیچے ہوا۔ اس خود کش حملے میں ڈی ایس پی بڈھ بیر رشید خان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں ڈی ایس پی اور ان کے دو محافظوں سمیت پانچ افراد جاں بحق اور پندرہ زخمی ہوگئے ۔وخو پل دھماکے کے دو گھنٹے بعد پشتہ خرہ کے علاقے تاج آباد میں پولیس وین کو دھماکے سے اڑا دیا گیا جس میں ایک پولیس اہلکار جاں بحق اور پانچ زخمی ہوگئے۔