5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
کراچی میں امن و امان کا قیام اہم ترجیح ہے ،وزیراعلیٰ سندھ
جنگ نیوز -
کراچی...سید منہاج الرب… وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ،وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی زیر صدارت امن و امان کے حوالے سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ ہوئی۔ اجلاس میں آئی جی پولیس سندھ اور ڈائریکٹر جنرل رینجرز اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔شرکاء نے سندھ رینجرز اور پولیس اور پولیس کی پیشہ ورانہ مہارت اور امن امان قائم کرنے کے سلسلے میں کارکردگی کو سراہا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی میں امن و امان کا قیام سندھ حکومت کی اہم ترجیح ہے اور حکومت کی طرف سے صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات کئے گئے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ حکومت نے خصوصی طور پر کراچی کیلئے رینجرز کی خدمات حاصل کیں اور فرائض کی انجام دہی کیلئے رینجرز کو انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کی دفعہ5کے تحت اختیارات دیئے گئے ہیں، جبکہ امن عامہ کی انجام دہی کیلئے صوبہ سندھ میں بالعلوم اور کراچی میں باالخصوص رینجرز کی امن و امان کے متعلق حکومت سندھ تمام کارروائیوں کی نگرانی کر رہی ہے، جبکہ ٹارگٹ کلرز اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلاتفریق کارروائی جاری رہے گی اور تمام سیاسی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تمام جرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، تاکہ صوبے میں امن امان کو پوری طرح سے بحال رکھا جائے۔ اجلاس میں کاروباری حلقوں کی طرف سے بھتہ خوری کی شکایت پر بھی غور کیا گیا۔وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے اس ضمن میں سختی سے نوٹس لیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی کہ کاروباری اور ملکی معیشت کے مرکز کراچی میں اس طرح کی خوف و ہراس نہ پھیلنے دیا جائے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صورتحال کے سلسلے میں وزیراعلیٰ سندھ نے بذات خود نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ کاروباری حلقوں کو بھرپور تحفظ اور اطمینان مہیا کیا جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکریٹری سندھ،آئی جی پولیس سندھ اور رینجرز کو کاروباری حلقوں کی اس شکایت کو دور کرنے کیلئے سخت اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے وفاقی حکومت سے بھی بروقت خفیہ معلومات مہیا کرنے کی درخواست کی اور ایف آئی آر کے سائبر کرائم ونگ کی مدد کی بھی درخواست کی تاکہ بھتہ خوری میں ملوث لوگوں کے ٹیلیفون کی شناخت کی جا سکے۔ اجلاس میں سی سی پی او کراچی نے ایک مفصل بریفنگ دیتے بتایا کہ جنوری2011ء میں مجموعی طور پر 125افراد ہلاک ہوئے، جس میں سے37ٹارگٹ کلنگ کے زمرے میں آتے ہیں اور 88 دیگر قتل ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹارگٹ کلنگ کے کیسز کے حوالے سے64ملزمان گرفتار کئے گئے اور 80کیسز کی سال2010ء میں نشاندہی ہوئی، جبکہ 29ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور 30کیسز کی سال2011ء میں نشاندہی ہوئی۔ سی سی پی او نے کہا کہ 36پولیس اہلکارشہید ہوئے اور 105زخمی، انہوں نے کہا کہ بینک ڈکیتی کے12کیسز کی نشاندہی ہوئی اور 25ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ اجلاس میں آئی جی پولیس سندھ سلطان بابر خٹک، ڈی جی رینجرز سندھ، سیکریٹری داخلہ سندھ ایم عارف خان، سی سی پی او کراچی فیاض لغاری اور دیگر سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔