5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
مصر میں قیادت کی تبدیلی ہماراکام نہیں،امریکا
جنگ نیوز -
واشنگٹن. . . . . . . .مصر میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ صدر حسنی مبارک پر عالمی دباؤ بڑھ رہا ہے جس میں مصر میں بامعنی مذاکرات اور شفاف انتخابات پر زور دیا گیا ہے۔ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبز نے بریفنگ کے دوران کہا کہ مصر میں قیادت کی تبدیلی کا فیصلہ امریکا کا نہیں بلکہ مصری عوام کا کام ہے۔ مصرکا بحران بامعنی مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔ رابرٹ گبز نے امید ظاہر کی کہ بڑھتے ہوئے احتجاج اور ملین مارچ کے دوران مصر میں حکومت اور اپوزیشن تحمل سے کام لیں گی۔مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے جرمن چانسلر اینجلا مرکل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے تشویش ظاہر کی ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں سے فائدہ اٹھا کر انتہاپسند مصر پر قبضہ کر سکتے ہیں، مصر میں ایرانی طرز کی تبدیلی خطے میں عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے، امریکا اور یورپی ممالک کی جانب سے مصر کا ساتھ چھوڑنے کے اسرائیلی الزام کا جواب دیتے ہوئے جرمن چانسلر انجلا مرکل نے کہا کہ جمہوریت کے اصول ہر ملک کے لیے یکساں ہوں گے۔ ہر ملک کے عوام کو آزادی اظہار اور شفاف انتخابات کرانے کے مطالبے کا حق حاصل ہے۔دوسری جانب برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے کہا کہ یورپی یونین موجودہ حالات اور مستقبل میں مصرکی مدد کو تیار ہے۔جاپان اور برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ کا کہنا تھا کہ وہ شفاف انتخابات اور اقتدار کی پرامن منتقلی چاہتے ہیں۔