5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
واٹر لائن کو نقصان پہنچانے والوں کو عمر قید سزاکی تجویز دی ہے،حسین سید
جنگ نیوز -
کراچی…مہناج الرب …ڈی سی او کراچی محمد حسین سید کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں بتایا گیا کہ قانون نہ ہونے کی وجہ سے شہر میں غیر قانونی ہائیڈرینٹس طاقتور مافیا بن کر ہولناک صورتحال اختیار کرچکا ، قانون سازی کیلئے سمری صوبائی حکومت کو روانہ کردی گئی ہے جس کے تحت ریلوے لائن اُکھاڑنے کے جرم کی طرح واٹر بورڈ کی لائن کو نقصان پہنچانے والے افراد کو بھی عمر قید کی سزا دینے کی تجویز دی گئی ہے، ایڈمنسٹریٹر کراچی فضل الرحمن کی ہدایت پر ڈی سی او سیکریٹریٹ میں ہونے والے اجلاس میں ایم ڈی واٹر بورڈ مصباح الدین فرید، ای ڈی او میونسپل سروسز مسعود عالم، چیف انجینئر واٹر بورڈ نجم عالم صدیقی، سائٹ ٹاؤن، لیاقت آبادٹاؤن، کورنگی ٹاؤن، لانڈھی ٹاؤن اور جمشید ٹاؤن کے ایڈمنسٹریٹرز اور سائٹ لمیٹڈ و واٹر بورڈ کے افسران نے شرکت کی، اجلاس کو بتایا گیا کہ شہر میں جتنے بھی ہائیڈرینٹس ہیں وہ غیر قانونی ہیں کیونکہ ان کی اجازت ٹاؤن ا نتظامیہ اور سائٹ لمیٹڈ نے دی ہے جن کو ہائیڈرینٹس کی اجازت دینے کا اختیار حاصل نہیں، محمد حسین سید نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر قانونی ہائیڈرینٹس چلانے والوں کے خلاف شہری حکومت واٹر بورڈ اور ٹاؤن ایڈمنسٹریٹرز کی مشترکہ کوششوں سے بھر پور آپریشن کیا جائے کیونکہ غیر قانونی ہائیڈرینٹس سے شہریوں کو مضر صحت پانی فراہم کیاجارہا ہے، جس سے گردے اور جگر کی بیماریوں کے خطرات بھی ہیں جبکہ شہر کے انفراسٹرکچر کوبھی نقصان ہورہا ہے، ڈی سی او کراچی نے اس موقع پر کہا کہ واٹر بورڈ کی لائنوں سے پانی چوری کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے کیونکہ پانی کی چوری روکنا ہماری ذمہ داری ہے، جو بھی کوئی اس میں مزاحمت کرے اس کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کرائی جائے انہوں نے کہا کہ چوری کا پانی کمرشل بنیاد پر استعمال کیاجارہا ہے جس سے عام شہریوں کو پانی کی فراہمی میں کمی آرہی ہے، غیر قانونی ہائیڈرینٹس کے خلاف تسلسل سے آپریشن جاری رہنا چاہئے تاکہ یہ نظام مضبوط نہ ہوسکے تمام شہری ادارے اس کے لئے مشترکہ کوشش کریں، اس موقع پر ایم ڈی واٹر بورڈ مصباح الدین فرید نے بتایا کہ ہائیڈرینٹس مافیا بہت منظم ہے یہ لوگ مین ٹرنک میں شگاف ڈال کر پانی چوری کرتے ہیں اور پھر اسے کمرشل بنیاد پر فروخت کرتے ہیں، ان کے خلاف پہلے بھی کئی آپریشن کئے گئے جن میں 100 سے زائد غیر قانونی ہائیڈرینٹس ختم کردےئے گئے تھے مگر یہ کاروبار دوبارہ شروع ہوجاتا ہے،یہ شہر کا پرانا مسئلہ ہے اور وقت کے ساتھ طاقتور مافیا کا روپ دھار چکا ہے سٹی حکومت ان کے خلاف آپریشن میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ساتھ تعاون کرے کیونکہ یہ ہائیڈرینٹس جہاں واٹر بورڈ کے ریونیو میں کمی کا باعث بن رہے ہیں وہاں شہر کے انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں غیر قانونی ہائیڈرینٹس سارے شہر میں موجود ہیں تاہم گٹر باغیچہ، تین ہٹی، لیاقت آباد اور کورنگی میں زیادہ ہیں ۔