5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
مصر میں احتجاج جاری، حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں، 5سو زخمی
جنگ نیوز -
قاہرہ...مصر میں صدر حسنی مبارک کے خلاف مظاہرے آج بھی جاری رہے اوردارالحکومت قاہرہ کاالتحریر چوک میدان جنگ بنا رہا،جہاں حسنی مبارک کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپوں کے دوران اب تک پانچ سو سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں،مصر کے گلی کوچے ارحل ارحل یا مبارک کی صداوں سے گونج رہے ہیں۔ لاکھوں عوام نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات قاہرہ کے تحریر چوک پر گذاری۔التحریر چوک سے دریائے نیل کی موجوں تک انسانوں کا سمندر تھا جس کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ صدر مبارک اب اقتدار چھوڑ دیں جبکہ تحریر چوک اور صدارتی محل کے درمیان بکتر بند گاڑیوں اور رکاوٹوں کی دیواریں حائل ہیں۔اگرچہ کہحسنی مبارک نے ستمبر کے صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے لیکن کئی مظاہرین صدر مبارک کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مخالفین کی جانب سے ہونے والے ملین مارچ میں حسنی مبارک کے خلاف کرپشن، تشدد، بے روزگاری اور ڈکٹیٹرشپ کے الزام میں فردِ جرم عائد کی گئی، مقدمہ چلایا گیا اور سزا بھی سنا دی گئی۔ آج مظاہروں کی خاص بات حسنی مبارک کے حامیوں اور مخالفین میں ہونے والی جھڑپ تھی، مبارک کے حامیوں میں بغیر وردی کے پولیس اہل کار بھی شامل تھے لیکن لا مبارک لا کہنے والوں نے انھیں پسپا کردیا، ان جھڑپوں میں اب تک کی موصولہ اطلاعات کے مطابق پانچ سو سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں، اپوزیشن نے الزام لگایا ہے کہ مبارک کے حامی پیڑول بموں سے حملے کررہے ہیں۔ دوسری جانب مصری فوج نے مظاہرین سے درخواست کی کہ وہ معمول کی زندگی کی جانب لوٹ جائیں۔ امریکی صدر کا مطالبہ ہے کہ مصری حکومت تشدد سے گریز کرے۔ جبکہ یورپی یونین نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے مبارک سے اقتدار کی منتقلی کا مطالبہ کردیا ہے۔ مصر میں جاری پرتشدد واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 300 سے تجاوز کرچکی ہے