5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
معیشت کی بحالی کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہئے،چوہدری شجاعت حسین
جنگ نیوز -
اسلام آباد...پاکستان مسلم لیگ کے صدر سینیٹر چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ پاکستانی معیشت کی بحالی اور بہتری کیلئے کردار ادا کرنا ہمارا قومی فریضہ ہے۔ معیشت کی بحالی کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہئے۔ ہم ڈیڈ لائن، ہارڈ لائن یا ہیڈ لائن دینے کی بجائے عوام کی بہتری کیلئے ٹھوس کردار کی ادائیگی پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ یہاں اپنی رہائش گاہ پر وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی سربراہی میں حکومتی ٹیم اور مسعود احمد کی قیادت میں آئی ایم ایف کے وفد سے ملاقاتوں میں اظہار خیال اور میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ ملاقاتوں میں سینئر مرکزی رہنما چوہدری پرویزالٰہی، جنرل سیکرٹری مشاہد حسین سید، سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ، چودھری وجاہت حسین ایم این اے، ڈاکٹر دونیا عزیز ایم این اے، محمد بشارت راجہ، مصطفی ملک، مسز فرخ خان اور حلیم عادل شیخ بھی موجود تھے جبکہ حکومتی ٹیم میں وفاقی وزرا سید نوید قمر، راجہ پرویزاشرف اور دیگر شخصیات شامل تھیں۔ حکومتی ٹیم نے پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ کو حکومتی حکمت عملی کے حوالے سے اعتماد میں لیا اور معاشی صورتحال کی بہتری کیلئے مختلف تجاویز پرغورکیاگیا۔وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں چوہدری شجاعت حسین کو اہم مقام حاصل ہے۔ حکومت معیشت کی بحالی سمیت دیگر امور میں ان کی تجاویز سے استفادہ کرنا چاہتی ہے۔ چوہدری شجاعت حسین اور دیگر رہنماؤں نے آئی ایم ایف کے وفد پر زور دیا کہ پاکستانی معیشت کی بحالی کیلئے لانگ ٹرم اقتصادی پروگرام شروع کیا جائے، روزگار کے ذرائع پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے۔اس موقع پرچودھری شجاعت حسین نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ وہ مخالفت برائے مخالفت کی بجائے عوام کی بہتری کیلئے کام کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور ملکی معیشت کو ٹھیک کرنا قومی فریضہ ہے۔ معیشت کی بہتری کیلئے مختلف تجاویز زیر غور ہیں جن کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ RGSTکے بارے میں عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کئے جائیں گے۔ چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ ملکی معیشت کی بہتری تک غربت اور مہنگائی پر قابو نہیں پایا جا سکے گا، روزگار کی بحالی اور معیشت کے استحکام کیلئے تمام قوتوں کو مل کر متفقہ ایجنڈا ترتیب دینا ہوگا، بیڈ گورننس کی وجہ سے عام آدمی متاثر ہو رہا ہے، ہم نے حکومت چھوڑتے وقت پنجاب کے خزانے میں 76 بلین چھوڑے تھے، آج پنجاب حکومت300 ارب سے زائد کی مقروض ہے اور صوبائی خزانے کو بے دریغ ضائع کیا جا رہا ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی نے آئی ایم ایف کے وفد کو بتایا کہ ہمارے دور میں گروتھ ریٹ 38 تھا، 17 ارب ڈالر کے ریزرو تھے، 8 ارب کی فارن انوسٹمنٹ تھی جو کہ اب نہ ہونے کے برابر ہے۔