5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
جلسہ قومی یکجہتی نے ایک پاکستانی قوم کے تصور کو اجاگر کیا ، رابطہ کمیٹی
جنگ نیوز -
کراچی...متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے ”جلسہ قومی یکجہتی “ کو تاریخی اور فقید المثال کامیابی سے ہمکنا ر کرانے پر کراچی کی پختون ، پنجابی ، بلوچی ، سرائیکی ، ہزارے وال ، بنگالی ، برمی اور اقلیتی برادریوں کے نوجوانوں ، بزرگوں ، خواتین اور بچوں سے دلی تشکر کااظہار کیا ہے ۔ ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہاکہ کراچی کی تمام قومیتوں اور مذہبی اقلیتوں کا ایم کیوایم پر اظہار اعتماد قائد تحریک الطاف حسین کے فکر وفلسفہ اورنظریئے کی سچائی کا ایک اورثبوت ہے ۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ ”جلسہ قومی یکجہتی “ میں تمام قومیتوں اور مذہبی اقلیتو ں کے عوام کی لاکھوں کی تعداد میں شرکت الطاف حسین پر اعتما د کا کھلا مظہر ہے اور ان نام نہاد ملک دشمن اور سازشی عناصر کی بد ترین ناکامی ہے جو مختلف قومیتوں اور مذہبی اقلیتوں کو اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے آپس میں لڑاتے آئے ہیں ۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ ایم کیوایم کے جلسہ قومی یکجہتی میں تمام قومیتوں اور مذہبی اقلیتوں نے اپنے رنگ بکھیرے اور ایک پاکستانی قوم کے تصور کو اجاگر کرکے مضبوط کیا ہے اور ایم کیوایم کے پلیٹ فارم سے یہ کارنامہ قائد تحریک الطاف حسین کی حب الوطنی کا ثبوت ہے اور اب ملک میں غریب و متوسط طبقے کے انقلاب کو آنے سے دنیا سے کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی ۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ اب مظلوم قومیتوں کا اتحاد دنیا نے دیکھ لیا ہے اور جان لیا ہے کہ قائد تحریک الطاف حسین جس انقلاب کی بات کررہے ہیں وہ مظلوم قومیتوں اور مذہبی اقلیتوں کے اتحاد سے آنے والا ہی والا ہے ۔دریں اثناء متحدہ قومی موومنٹ کے حق پرست ارکان سندھ اسمبلی خواجہ اظہار الحسن اور خالد افتخار نے نیپرا کی منظوری کے بعد کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں 96پیسے فی یونٹ اضافہ کرنے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور مہنگائی ، بیروزگاری کے دور میں اس اضافہ کو غریب عوام سے جینے کا حق چھین لینے کے مترادف قرار دیا ہے ۔ اپنے مشترکہ بیا ن میں انہوں نے کہاکہ مہنگائی اور بیروزگاری نے پہلے ہی عوام کی کمر توڑ رکھی ہے اور حالیہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ کی منظوری ان حالات میں انتہائی غیر دانشمندانہ اقدام ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مہنگائی اور بیروزگاری سے تنگ غریب عوام خود کشیاں کررہے ہیں ، عوام کو دو وقت کی روٹی تک میسر نہیں آرہی ہے ، ایسے نازک حالات میں پے درپے مہنگائی کا بوجھ غریب عوام پر ڈالنا کسی بھی مہذب معاشرے میں مثبت اقدام قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ یہ اقدام غریب عوام پر خود کش حملے کے مترادف ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔خواجہ اظہار الحسن اور خالد افتخار نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے مطالبہ کیا کہ نیپرا کی منظوری سے کے ای ایس سی کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں 96پیسے فی یونٹ اضافہ فی الفور واپس لیاجائے اور غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے مثبت اور عملی اقدامات بروئے کار لائے جائیں ۔