5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
چیئر مین نیب تقرری کیس: اتفاق رائے کی کوشش کرنی چاہئے، سپریم کورٹ
جنگ نیوز -
اسلام آباد…جسٹس ریٹائرڈدیدارشاہ کے بطورچیئرمین نیب تقررکیخلاف مقدمہ کی سماعت کے دوران ججزنے ریمارکس میں کہاہے کہ تقرر کا نوٹیفکیشن منسوخ ہوا تو آرٹیکل209کا اطلاق نہیں ہوگا، نیب آرڈیننس کی دفعہ چھ میں مشاورت کا عمل قانونی اور سیاسی دونوں طرح کا ہے۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران ایک درخواست گزار چودھری نثار کے وکیل اکرم شیخ کاکہناتھاکہ چیئرمین نیب کے تقرر میں اتفاق رائے کے لئے مشاورت کا عمل شروع ہی نہیں ہوا، جسٹس جاویداقبال نے ریمارکس دئے کہ عدالت نے صرف یہ دیکھنا ہے کہ چیئرمین نیب کا تقرر آرٹیکل48اور سیکشن6کے تحت ہوا یا نہیں۔جسٹس آصف سعید نے ریمارکس دیئے کہ اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش ہونی چاہئے۔چیئرمین نیب کے وکیل خالد رانجھا نے دلائل میں کہا کہ مشاورت کا مطلب صرف یہ ہے کہ بیٹا پوچھے گائے بیچ دوں، باپ کہے نہیں۔اس پر جسٹس آصف سعیدنے کہا کہ ابھی تو یہ بھی دیکھنا ہے کہ مستقل پراسیکیوٹرجنرل کے بغیرقائم مقام پراسیکیوٹر کیسے مقرر ہوا، وفاق کے وکیل حفیظ پیرزادہ نے کہا کہ مشاورت کا عمل قانونی نہیں۔