تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48

امریکا فلپائن میں یورینیم کی اسمگلنگ میں ملوث ہے،وکی لیکس

جنگ نیوز -
منیلا…وکی لیکس کا ڈبہ ہے کہ بند ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔اب دوبارہ شامت آئی ہے امریکا کی ،جس کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ فلپائن میں یورینیم کی اسمگلنگ میں ملوث ہے۔21نومبر2007 کو لندن میں امریکی ایمبسی سے واشنگٹن بھیجے جانیوالے ایک مراسلے میں لکھا گیا کہ فلپائن میں ممکنہ طور پر تابکاری مواد کی غیرقانونی اسمگلنگ کی گئی ہے۔مراسلے کے مطابق ایک نامعلوم شخص نے بیس نومبر دو ہزار سات کو امریکا کے فارن سروس نیشنل انوسٹی گیٹر یونٹ کو فون کیا اور کہا کہ اس کے پاس یورینیم کی ممکنہ فروخت سے متعلق معلومات ہیں جس کا تعلق امریکا سے ہے۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اس شخص کا کہنا تھا کہ وہ فلپائن میں غوطہ خوروں کے ساتھ کام کرتا تھااور حال ہی میں ان غوطہ خوروں نے اطلاع دی ہے کہ انہیں سک کی سائٹ پر زیر سمندر یورینیم کی پانچ ، چھ اینٹیں ملی ہیں۔مراسلے کے مطابق فون کرنیوالے کے رابطے میں رہنے والے غوطہ خور یورینیم کی یہ اینٹیں منافع کیلئے بیچنا چاہتے تھے۔اسی دن انوسٹی گیشن یونٹ کے مقامی سکیورٹی آفس کو اس تابکاری مواد کی تصویریں بذریعہ ای میل موصول ہوئیں۔ مراسلے میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ امریکی افواج فلپائن کی حدود میں تابکاری مواد کیوں لارہی ہیں۔بایان کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ وزیٹنگ فورس معاہدے کے تحت فلپائنی حکام کو امریکی فوج کے جنگی جہازوں کے معائنے کی اجازت نہیں ہے اور امریکی کمانڈرز جہازوں پر موجود سامان کا تصدیقی سرٹیفیکٹ جاری کرتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تابکاری مواد سے لیس کوئی امریکی جہاز سمندر میں ڈوب گیا تھا؟اور کیا یہ بات امریکی حکام کی معلومات میں تھی؟جسے امریکا نے صرف اس لیے چھپایا تاکہ دنیا کو پتہ نہ چل جائے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کے قانون کی کس طرح خلاف ورزی کر رہا ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.