5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
سندھ :بلائنڈ ڈولفن کی تعداد میں گزشتہ چند برسوں میں اضافہ
جنگ نیوز -
سندھ :بلائنڈ ڈولفن کی تعداد میں گزشتہ چند برسوں میں اضافہ
کراچی…محکمہ وائلڈ لائف سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق انڈس بلائنڈ ڈولفن کی تعداد میں گزشتہ چند برسوں میں اضافہ ہوا ہے حالانکہ ان کی جان کو مختلف خطرات لاحق ہیں۔میٹھے پانی کے اس نایاب جانور کی سب سے زیادہ تعداد گڈو اور سکھر بیراج کے درمیان دریا میں موجود ہے اس کی وجہ ان جگہوں پر پانی کی گہرائی ہے اور ڈولفن گہرے پانی میں رہنا پسند کر تی ہے، سب سے زیادہ انڈس بلائنڈ ڈولفن سکھر بیراج اور لینس ڈاوٴن برج کے اطراف میں رہتی ہیں، سکھر بیراج کے علاوہ انڈس بلائنڈ ڈولفنوں کو دوسرا بڑا ٹھکانہ گڈو بیراج ہے، چونکہ ڈولفن کوئی مچھلی نہیں ہے اور میمل ہے اس لیے یہ ہر دو تین منٹ کے بعد سانس لینے کے لیے سطح کے چکر لگاتی ہے، انڈس بلائنڈڈولفن بہت حساس اور معصوم اور شرمیلا جانور ہے دریا میں اگر کہیں بھی شور شرابہ ہو تو یہ وہاں سے دور بھاگ جاتی ہے، اکثر خوراک کی تلاش میں مختلف نہروں میں جا کر کم پانی میں یا کسی مچھیرے کے جال میں پھنس جانے والی ڈولفن کو ریسکیو کر کے اس کو گہرے پانی میں چھوڑا جاتا ہے، ڈپٹی کنزرویٹر وائلڈ لائف تاج احمد شیخ کے مطابق نامساعد حالات کے باوجود گزشتہ چند برسوں کے دوران بلائنڈ ڈولفنوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔