5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
اوباما انتظامیہ کاصدر حسنی مبارک کو اقتدار سے فوری الگ کرنے پر غور
جنگ نیوز -
واشنگٹن … اوباما انتظامیہ مصر کے صدر حسنی مبارک کو اقتدار سے فوری طور پر الگ کرنے کی تجویز پر غورکررہی ہے ۔امریکی اخبار کے مطابق اوباما انتظامیہ اورمصر کے حکام اس تجویز پر غور کررہے ہیں کہ مصر کے صدر حسنی مبارک کو فوری اقتدار سے الگ کردیا جائے اور نائب صدر عمر سلیمان کی قیادت میں عبوری حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے ۔ امریکی اخبار نے مصری انتظامیہ کے افسران اور عرب سفارت کاروں کے حوالے سے بتایا کہ عبوری حکومت کے قیام میں مصری فوج بھی مدد لی جائے ۔تجویز کے مطابق اپوزیشن گروپس کے رہنماؤں اور حتیٰ کہ اخوان المسلمون کو بھی عبوری حکموت میں شامل کیا جائے تاکہ عبوری حکومت مصر میں شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد کے حوالے کام کیا جاسکے ۔اوباما انتظامیہ کے سینئر اہلکار کا کہنا ہے اس تجویز پر غور ان مصری حکام کے ساتھ جاری ہے جو حسنی مبارک کے بہت قریب ہیں تاکہ وہ انہیں فوری طور پر اقتدار سے الگ ہونے کیلئے راضی کرسکیں ۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ان اطلاعات کے تصدیق کئے بغیر کہا کہ صدر اوباما کا کہنا ہے کہ مصر میں پرامن ، بامقصدمنتقلی اقتدار کا وقت آچکا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا نے مصریوں کے ساتھ آگے بڑھنے کے مختلف امکانات پر بات چیت کی ہے تاہم حتمی فیصلے مصری عوام نے ہی کرنے ہیں۔ادھر امریکی سینیٹ نے صدر حسنی مبارک سے نگران حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا ہے امریکی سینٹ میں منظور کی جانیوالی ایک قرارداد کے مطابق حسنی مبارک ملک میں حقیقی جمہوریت نافذ کریں۔