5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
مصری ہیومن رائٹس نے 2008میں اپنی حکومت پر تنقید کی تھی، وکی لیکس
جنگ نیوز -
قاہرہ …دنیا بھر میں جہاں مصری پولیس اور فورسز کے مظاہرین پر ، پرتشدد رویے پر تنقید کی جارہی ہے وہیں خفیہ امریکی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ مصر کی اپنی ہیومن رائٹس کونسل نے بھی دو ہزار آٹھ میں قاہرہ حکومت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔13 مئی دو ہزار نو کو قاہرہ سے امریکی سفیر مارگریٹ اسکوبی نے واشنگٹن کو مراسلہ لکھا جس میں مصر کی نیشنل کونسل فار ہیومن رائٹس کی رپورٹ کا ذکر کیا گیا ۔ مراسلے کے مطابق کونسل نے اپنی رپورٹ میں مصر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر حسنی مبارک کی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ غیر سرکاری تنظیموں پر پابندیوں سے لیکر ہنگامی قانون کا مسلسل اطلاق اور اپریل دو ہزار آٹھ میںMahallaاسٹرائیک سے نمٹنے میں جارحانہ رویہ اختیار کرنے پر مصری حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا ۔ نیشنل کونسل فار ہیومن رائٹس نے مصر میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان جاری کشیدگی سے نمٹنے میں بھی مصری حکومت پر کڑی تنقید کی ۔ انسانی حقوق کی کمیٹی نے مبارک حکومت کو پچیس اہم تجاویز پیش کی جن میں ایمرجنسی لا ہٹانے کا بھی کہا گیا تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال بہتر ہوسکے تاہم امریکی سفیر کے مراسلے سے پتہ چلتا ہے کہ قاہرہ حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں ۔