5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
مصر میں اپوزیشن کی طاقت کے اظہار کادن، فوج کا گولی نہ چلانے کا وعدہ
جنگ نیوز -
قاہرہ … مصری اپوزیشن آج طاقت کے اظہارکادن منا رہی ہے، جبکہ فوجی حکام نے امریکا کو یقین دلایا ہے کہ مظاہرہ کرنیوالوں پر گولی نہیں چلائی جائیگی، نائب صدر عمر سلیمان نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ حکومت کے حامیوں نے مظاہرین کو قتل کیا ہے۔ صدر حسنی مبارک نے کہا ہے کہ اگر انھوں نے اقتدار چھوڑا تو ملک میں افرا تفری پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنیوالی اپوزیشن جمعے کو طاقت کے اظہار کا دن منا رہی ہے۔واشنگٹن میں امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئر مین ایڈمرل مائیک مولن نے ایک ٹی وی انٹر ویو میں کہا کہ مصری فوجی رہنماؤں نے بات چیت کے دوران انھیں ایک بار پھر یقین دلایا ہے کہ قاہرہ میں حکومت مخاف مظاہروں اور ہنگاموں کے دوران آئندہ وہ اپنے عوام پر فائرنگ نہیں کریں گے۔قاہرہ میں بدھ اورجمعرات کو حکومت کے حامیوں اوراپوزیشن مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں افرادزخمی ہوئے۔جھڑپوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صدرحسنی مبارک نے کہا کہ وہ مصریوں کو آپس میں لڑتے دیکھنا نہیں چاہتے تاہم انہوں نے تشدد کا ذمے دار اخوان المسلمون کو قرار دیا ۔امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں مصرکے صدرحسنی مبارک نے کہا کہ وہ صدارت چھوڑنا چاہتے ہیں لیکن اگر انھوں نے فوری طور پراستعفیٰ دیا تو ملک میں افرا تفری پھیل جائیگی۔مظاہرین کا موقف ہے کہ حسنی مبارک اقتدارسے چمٹے رہنے کے بہانے تلاش کررہے ہیں۔نائب صدر عمر سلیمان نے اخوان المسلمون کو مذاکرات کی دعوت بھی دی ہے۔ تاہم ایک بیان میں انھوں نے ان الزامات کو غلط قرار دیا کہ مظاہرین کو حکومت کے حامیوں نے قتل کیا ہے۔اپوزیشن نے صدر حسنی مبارک کی جانب سے جھڑپوں کی تحقیقات کرانے کا اعلان مستردکردیاہے اور کہا ہے کہ طاقت کااستعمال کرنیوالے خودہی منصف بن کربیٹھناچاہتے ہیں جو قابل قبول نہیں۔