5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
مشرق وسطیٰ میں بدلتی صورتحال کی اطلاع نہ دینے پر اوبامہ کی ایجنسیوں پر تنقید
جنگ نیوز -
واشنگٹن . . . . . صدر براک اوباما نے مشرق وسطیٰ میں تیزی سے پھیلتے انتشار کے بارے میں پیشگی اطلاع اور تجزیہ نہ دینے پر امریکا کی خفیہ ایجنسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق موجودہ اور سابق عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صدر اوباما خفیہ امریکی ایجنسیوں کی مشرق وسطیٰ میں کارکردگی سے خوش نہیں ۔ ایک عہدیدار نے امریکی اخبار کو بتایا کہ تیونس میں تیزی سے بدلتی صورتحال نے کس طرح زین العابدین بن علی کا تختہ الٹ دیا جسے انٹیلی جنس ایجنسیاں جج نہ کرسکیں ۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق تیونس میں مظاہرے شروع ہونے کے بعد رپورٹ دی گئی تھی کہ صدر زین العابدین کی سیکیورٹی فورسز ان کی حکومت کا دفاع کریں گی لیکن ہوا اس کے برعکس ۔ امریکی اخبار کے مطابق قاہرہ میں تیزی سے بدلتی صورتحال پر بھی سی آئی اے کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی کیپٹل ہل میں شنوائی ہوچکی ہے ۔ سی آئی اے کے بعض عہدیداروں کا کہنا ہے کہ چند سالوں کے دوران خفیہ ایجنسی کے پیراملٹری آپریشنز میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے ایجنسی عالمی سطح پر کسی پیشگی صورتحال کا تجزیہ وہائٹ ہاوس اور کانگریس کو پیش نہیں کرپارہی ۔