5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
پاکستان میں جمہوری نظام کی بقا کیلئے آزاد عدلیہ ضروری ہے، چیف جسٹس
جنگ نیوز -
حیدرآباددکن …چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایک جمہوری نظام کی بقا کیلئے یہاں آزاد عدلیہ ضروری ہے۔ بھارت کے شہر حیدرآباد دکن میں سترہویں دولتِ مشترکہ لا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان میں عدلیہ مختلف مراحل سے گذری ہے لیکن عدلیہ نے اپنی آزادی کو یقینی بنایا ہے۔ پاکستان کی عدلیہ مختلف مراحل سے گذری ہے اور غیر آئینی اقدامات کے باوجود پاکستانی عدلیہ نے اپنی آزادی کو ہر حال میں یقینی بنایا ہے۔ کیونکہ عدلیہ یہ سمجھتی ہے کہ جب ملک میں آئین اور قانون کی حکم رانی ہو تو فوج کی حکم رانی کے بجائے جمہوری نظام کی بقا کی ضمانت ملتی ہے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ عدلیہ نے تین نومبر2007 کو ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر آئینی قرار دے کر آزاد عدلیہ کو منوایا۔اس اقدام کی عدلیہ کے علاوہ وکلا، طلبہ، میڈیا اور دیگر اداروں نے بھی مزاحمت کی۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پچھلے چند برسوں میں اپنی آزادی کے لیے بہت جدوجہد کی ہے تاکہ اس پر غیر ضروری دباو نہ ڈالا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے آئینی اختیارات کے عین مطابق سپریم کورٹ نے پچھلے چند برسوں میں عدلیہ کو صحیح معنوں میں آزاد، غیر جانب دار اور خودمختار بنانے کیلئے جدوجہد کی ہے تاکہ عدلیہ انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی غیر ضروری دباؤ یا رغبت کا شکار نہ ہوسکے اور ہر قسم کے لوگوں کو بغیر کسی خوف، جانب داری اور بدنیتی کے، قانون کے مطابق انصاف مہیا کرسکے۔ اور عدلیہ کا اسی طرح کا امیج ضروری ہے کیونکہ عدلیہ نہ صرف مقدمات کے فیصلے کرتے اور تنازعات نمٹاتی ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق اور شہریوں کو حاصل آزادیوں کا بھی تحفظ کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ سب سے زیادہ عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے پاکستان کی سپریم کورٹ نے شہریوں کو نچلی ترین سطح تک انصاف کی فراہمی کے لیے جدوجہد کی ہے۔