تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48

علم طاقت ہے جس سے کائنات کی ہرچیز منسلک ہے،الطاف حسین

جنگ نیوز -
کراچی…متحدہ قومی موومنٹ کے قائدالطاف حسین نے کہاہے کہ علم ایک طاقت ہے جس سے کائنات کی ہرچیز منسلک ہے۔ جہاں علم ہوگا وہاں اللہ تعالیٰ کی صفات ہونگیں، وہاں تقویٰ ، مساوات، انصاف ،ترقی اور خوشحالی ہوگی اور جہاں جہل ہوگا وہاں پسماندگی ہوگی،دھوکہ دہی ، کرپشن اور بے ایمانی ہوگی ۔اگرسپرپاوربنناہے توعلم حاص کرو اوراگرسپرپاورکاغلام بنناہے تو جہل کاراستہ اختیارکرو، جہاں جہل ہوگا وہاں غلامی ہوگی اور جہاں علم ہوگا وہاں حکمرانی ہوگی ۔ وہ فیڈرل بی ایریا میں ناصر حسین شہید اور عارف حسین شہید لائبریری کی افتتاحی تقریب سے ٹیلی فونک خطاب کررہے تھے ۔ تقریب سے ڈاکٹر فرمان فتح پوری، کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم اور سابق سٹی ناظم کراچی سید مصطفی کمال نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں مولانا تنویر الحق تھانوی، مولانا اسد دیوبندی ، مولانا جمیل راٹھور ، الطاف حسین کی بڑی ہمشیرہ محترمہ طاہرہ بیگم، محترمہ سائرہ اسلم اوردیگر عزیزواقارب سمیت ماہرین تعلیم،دانشوروں، مصنفوں اورکالم نگاروں کے علاوہ ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرز ڈاکٹر فاروق ستار، انیس قائم خانی ،رابطہ کمیٹی کے ارکان ،سینیٹرز، قومی وصوبائی اسمبلیوں کے ارکان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہاکہ آج ناصر حسین شہید اور عارف حسین شہید لائبریری کا جس مقام پر افتتاح ہورہا ہے یہ جگہ کل تک ایک رہائش گاہ تھی جہاں میرے بڑے بھائی ناصر حسین شہید اپنے اہل خانہ کے ہمراہ رہائش پذیر تھے ۔ 66 سالہ ناصر حسین نے پاکستان کے ابتدائی ایام میں حکومت پاکستان کو سنبھالا دینے والے افراد کے ساتھ ملکر دن رات محنت کی اور پاکستان کو سہارا دیا۔ناصر حسین ریٹائرمنٹ کی زندگی گزاررہے تھے ۔جبکہ 28، سالہ عارف حسین جامعہ این ای ڈی سے فارغ ہونے کے بعد ملازمت کررہے تھے اور شام کو ٹیوشن پڑھایا کرتے تھے ۔دونوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا،اسی جگہ سے 5 اور 6 دسمبر1995ء کی درمیانی شب ناصر حسین اور عارف حسین کو گرفتارکرکے تین روز تک وحشیانہ تشددکا نشانہ بنایا گیا اور 9،دسمبر1995ء کو گولیاں مارکر شہیدکردیا گیا۔ سفاک قاتلوں نے عارف حسین کو شہیدکرنے کے بعد کلہاڑی کے وار کرکے انکے سرکے دوٹکڑے کردیے ۔ اس وقت کی سپریم کورٹ سمیت کسی ادارے نے اس سفاکانہ قتل کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ بسابسایا گھر اجڑ گیا، میری بھابھی اور بچے جان بچانے کیلئے دربدر چھپتے رہے او ر آج کے دن تک میری بیوہ بھابھی اور انکے بچے اس گھر میں دوبارہ واپس نہیں آئے ۔ الطاف حسین نے کہاکہ میرے بڑے بھائی کا بھرا پرا گھر اجڑ چکا تھا اورہم سب نے خوب غور کیا کہ آیا اس بلاجواز سفاکانہ اوربہیمانہ قتل کے جواب میں مزید گھر نہ اجاڑے جائیں بلکہ اس اجڑے ہوئے گھر کو کسی طرح دوبارہ آباد کیا جائے اور اس گھر کو انسانیت کی فلاح وبہبودکیلئے وقف کردیا جائے ۔انھوں نے اس موقع پر اساتذہ سے درخواست کی کہ وہ یہاںآ کر طلبہ کو ہفتے میں ایک بار علم وآگہی پر لیکچر ضرور دیں۔


متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.