5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
مصر:حکومت اور اخوان المسلمون آئینی اصلاحات کیلئے فورم بنانے پر متفق
جنگ نیوز -
قاہرہ…مصر میں نائب صدر عمر سلیمان اور کالعدم اخوان المسلمون سمیت اپوزیشن رہ نماؤں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں ۔ حکومت ، اپوزیشن کے مطالبے پر آئینی اصلاحات کمیٹی تشکیل دینے پر راضی ہوگئی ہے ۔ ادھر مصری فوج کے کمانڈر اعلیٰ حسن al-Roweny قاہرہ کی آزادی چوک پہنچ گئے جہاں انھوں نے مظاہرین کو ٹھنڈا کرنے اور معمولات زندگی بحال کرنے پر راضی کرنے کی کوشش کی ۔ تقریباً تین دہائیوں میں عوامی انقلاب کو دیکھتے ہوئے ایسا پہلی بار ہوا ہے جب حسنی مبارک کی سب سے بڑی حریف ، کالعدم جماعت مسلم برادر ہڈ کو بھی مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی ۔ تیس برس سے مصر پر حکمرانی کرنے والے حسنی مبارک نے اپوزیشن رہ نماؤں سے مذاکرات کی چابی اپنے دست راست ، نائب صدر عمر سلیمان کو تھمائی تھی جو بڑی حد تک اپوزیشن کو منانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ سرکاری ترجمان نے بتایا کہ اپوزیشن رہ نماؤں سے مذاکرات میں آئینی کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق ہوگیا ہے جس میں عدالتی اور سیاسی شخصیات بھی شامل ہوں گی ۔ کمیٹی کے قیام کا مقصد مارچ کے پہلے ہفتے سے تک آئینی ترامیم سے متعلق تجاویز دینا ہے ۔ مسلم برادر ہڈ سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ آزادی صحافت و سیاست ، کرپشن کی فوری تحقیقات ، آزاد و شفاف پارلیمانی انتخابات کا انعقاد اور قومی مخلوط حکومت کا قیام یقینی بنایا جائے ۔ دوسری جانب مصر کے مستقبل کے فیصلہ ساز سمجھے جانے والے فوج کے اعلیٰ کمانڈر حسن al-Roweny نے قاہرہ میں تحریر اسکوائر کا دورہ کیا اور مظاہرین کو معمولات زندگی بحال کرنے اور اپنے اپنے گھروں کو لوٹنے پر قائل کرنیکی کوشش کی ۔ قاہرہ سمیت دیگر شہروں میں آج تیرہویں روز بھی مظاہرین حسنی مبارک سے صدارتی کرسی چھوڑنے کا مطالبہ لیے اکٹھے ہیں ۔