5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
مصر:مظاہرین نے بدستور قاہرہ کے تحریر چوک پر ڈیرے ڈال رکھے ہیں
جنگ نیوز -
قاہرہ ... مصر میں حکومت مخالف مظاہرین چودھویں روز بھی اپنی پوزیشن پر جمے ہوئے ہیں ۔ تاہم اپوزیشن نمائندوں اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے بعد صدر حسنی مبارک پر دباؤ کم ہوتا نظر آرہا ہے ۔مصری عوام نے اتوار کو شہدا کا دن منایا ۔ مظاہرین نے بدستور قاہرہ کے تحریر چوک پر ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔ تحریک کے دوران اپنی جانیں قربان کرنے والے شہدا کی یاد میں عیسائی برادی کے افراد بھی تحریر چوک پر جمع ہوئے اور دعا کی ۔ مصری فوج کے کمانڈر اعلیٰ حسن al-Roweny بھی تحریر چوک پہنچے اور مظاہرین کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ۔ حکومت مخالف تحریک کو دو ہفتے ہورہے ہیں اور دارالحکومت میں زندگی بتدریج معمول پر آرہی ہے ۔ گذشتہ روز نائب صدر عمر سلیمان اور اپوزیشن نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے جس میں کالعدم تنظیم اخوان المسلمون کو بھی شریک کیا گیا ۔ 1954 میں اخوان پر پابندی عائد کئے جانے کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کے مذاکرات میں اخوان کو شریک کیا گیا ۔ حکومتی ترجمان کے مطابق مذاکرات میں فیصلہ کیا گیا کہ آئینی ترامیم کے لئے ججوں اور سیاست دانوں پر مشتمل کمیٹی قائم کی جائے جو مارچ کے پہلے ہفتے تک اپنی تجاویز پیش کرے ۔ اس کے علاوہ میڈیا پر پابندیوں میں نرمی ، ایمرجنسی کے خاتمے ، غیر ملکی مداخلت کو مسترد کرنے اور سیاسی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کی شکایات کے لئے ایک دفتر قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ۔ مذاکرات کے بعد اخوان المسلمون کا کہنا تھا کہ اس ملاقات کے نتیجے میں مجوزہ اصلاحات کے لئے طریقہ کار ناکافی ہے ۔ نائب صدر عمر سلیمان نے مظاہرین کا یہ کلیدی مطالبہ مسترد کردیا کہ وہ صدارتی اختیارات سنبھال لیں ۔ تاہم اس اہم بات چیت میں محمد البرادعی کو مدعو نہیں کیا گیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات غیر شفاف ہیں ۔ انہوں نے سہ فریقی صدارتی کونسل قائم کرنے کی تجویز پیش کی ۔